منگلورو، 29 / جون ( ایس او نیوز) کچھ دن پہلے شہر کے مضافات کوڈوپو میں ہجومی تشدد کے ذریعے محمد اشرف کو موت کے گھاٹ اتارنے کے تعلق سے پیپلز یونین فار سوِل لبرٹیز، ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سوِل رائٹس اور آل انڈیا ایسو سی ایشن فار جسٹس کے اشتراک سے تیار کی گئی حقائق پر مبنی ایک تفتیشی رپورٹ کا اجرا بینگلورو پریس کلب میں عمل میں آیا۔
اس موقع پر سماجی کارکن اور وکیل ونئے شرینواس نے مطالبہ کیا کہ "ذات اور قوم کی بنیاد پر پروان چڑھنے والی نفرت اور دشمنی پر روک لگانے کے اقدامات پر غور کرنے کے لئے ریاستی حکومت کو اسمبلی کا خصوصی سیشن منعقد کرنا چاہیے ۔"
انہوں نے بتایا کہ ہجوم کے ہاتھوں محمد اشرف کے قتل کے بعد ریاستی وزیر داخلہ ڈاکٹر پرمیشور نے کہا تھا کہ ایسی رپورٹ ہے کہ 'محمد اشرف نے پاکستان زندہ باد' کا نعرہ لگایا تھا ۔ وزیر داخلہ کے اس طرح کے بیان کی وجہ سے میڈیا کا دھیان اسی سمت میں چلا گیا ۔ وزیر داخلہ کو پولیس افسران نے غلط رپورٹ دی تھی ۔ اس وجہ سے یہ پولیس کی ناکامی کا معاملہ ہے ۔ اس کے علاوہ ایف آئی آر میں 'پاکستان زندہ باد' والی بات درج نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ محمد اشرف قتل معاملے کی تحقیقات کو سی آئی ڈی یا ایس آئی ٹی کے حوالے کرنا چاہیے تھا ۔ وہاں پر پولیس جب اپنا کام صحیح ڈھنگ سے نہیں کر رہی ہے تو پھر اس بات پر بھروسہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ خصوصی ٹیم کوئی کام کرے گی ۔
محمد اشرف ہجومی قتل کے حقائق پر مبنی اس رپورٹ میں قتل کی واردات، پولیس اور ریاستی حکومت کا کردار اور اس واردات کی تفتیش میں کی گئی کوتاہیوں کو اجاگر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ محمد اشرف کا قتل دکشن کنڑا میں بڑھتی ہوئی فرقہ ورانہ دشمنی اور امن و قانون کی مسلسل گرتی ہوئی ساکھ کا نتیجہ ہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد میڈیا میں جس طرح کا مسلم مخالف ماحول بنایا گیا تھا، جس قسم کی یکطرفہ رپورٹنگ ہو رہی تھی، جو بے بنیاد فرقہ وارانہ سیاسی بیانات دئے جا رہے تھے اس پس منظر میں صاف نظر آ رہا ہے کہ دکشن کنڑا میں فرقہ وارانہ بغض و عناد میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے ۔
حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے سرگرم اہم تنظیموں کی جانب سے تیار کی گئی اس تفتیشی رپوٹ میں درج ذیل نکات کو واضح کیا گیا ہے :
• اقلیتوں پر ہونے والا فرقہ وارانہ ظلم و ستم خطرناک شکل اختیار کر گیا ہے ۔
• 'پاکستان زندہ باد' کا نعرہ لگانے کی جھوٹی خبر پھیلائی گئی تھی ۔
• منگلورو پولیس کمشنر، ڈپٹی پولیس کمشنر (لا اینڈ آرڈر) کے ذریعے موقع واردات کا دورہ کرنے کے باوجود ایف آئی آر داخل کرنے میں تاخیر کی گئی ، جو پولیس کی طرف سے اپنے فرائض ادا کرنے میں کوتاہی کا معاملہ ہے
• واردات کے وقت موقع پر کرکٹ ٹورنامنٹ چل رہا تھا، ایف آئی آر میں 20 افراد کے نام درج کیے گئے ہیں ، لیکن تعجب خیز بات یہ ہے کہ کسی نے بھی قتل روکنے یا پولیس کواطلاع دینے کی کوشش نہیں کی ۔
• حکومت نے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نامزد نہیں کیا ۔
• مقتول کے گھر والوں کو پوسٹ مارٹم رپورٹ نہیں سونپی گئی ۔
• ایف آئی آر داخل کرنے میں کوتاہی ہوئی ۔
• جھوٹی کہانیاں اور اس کی تشہیر میں میڈیا کا تعاون رہا ۔
• اہم افراد کا فرار
• تکنیکی اسباب، شکایت درج کرنے میں تاخیر یا جان بوجھ کر کوتاہی کرنے، پہلے درج کی گئی ایف آئی آر میں نام موجود نہ ہونے کی بنیاد پر کئی ملزمین کو ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔ یہ پوری طرح پولیس کی ناکامی کی مثال ہے ۔
• ہجومی قتل کی کے تعلق سے مقامی کارکنان پوری طرح باخبر رہنے کے باوجود انہوں نے حقائق جاننے کے لئے تفتیشی ٹیم کے ساتھ بات چیت کرنے اور جانکاری دینے سے گریز کیا ۔یہ مقامی طور پر موجود دشمنی کے ماحول اور سچائی بتانے پر درپیش خطرات کے خوف کی علامت ہے ۔
• سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی رہنما ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔
تفتیشی رپورٹ کے اہم مطالبات : اس تفتیشی رپورٹ میں درج ذیل اہم مطالبات پیش کیے گئے ہیں :
• سپریم کورٹ کی طرف سے تحسین ایس پونا والا بمقابلہ یونین آف انڈیا کیس میں دئے گئےفیصلے کو سختی کے ساتھ لاگو کیا جائے ۔
• اس کے تحت آنے والے تمام احتیاطی تدابیر اور سزا کے اقدامات پر فوری عمل کیا جائے ۔
• محمد اشرف ہجومی قتل معاملے کو تفتیش کے لئے سی آئی ڈی کے حوالے کیا جائے ۔
• اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نامزد کیا جائے ۔
• اس قتل کی عاجلانہ سماعت کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل کی جائے ۔
• 2008 میں وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کیے گئے فرقہ وارانہ بھائی چارگی کے لئے رہنما اصولوں کو فی الفور لاگو کیا جائے ۔
• مقتول محمد اشرف کے اہل خانہ کو سرکار کی طرف سے معاوضہ ادا کیا جائے ۔
• فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث تمام ہندوتوا وادی تنظیموں کے اراکین کے خلاف کڑی کارروائی کی جائے ۔