بنگلورو، 26 مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک کی سرکاری کمپنی "کرناٹک صابن اینڈ ڈیٹرجنٹس لمیٹڈ" (کے ایس ڈی ایل) نے بالی ووڈ اداکارہ تمنا بھاٹیہ کو میسور صندل صابن کی برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا ہے۔ دو سال اور دو دن کے لیے کیے گئے اس معاہدے کی مالیت 6.2 کروڑ روپے ہے، جو روزانہ تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار روپے بنتی ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ برانڈ کی عالمی سطح پر پہچان بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم، اس تقرری پر مقامی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ میسور کے رکن پارلیمان یدوویر وڈیر نے اسے نامناسب اور کنڑ ثقافت کی توہین قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میسورو صندل صابن کرناٹک کی ثقافتی وراثت کا حصہ ہے اور اس کی نمائندگی کے لیے کنڑا بولنے والی مقامی اداکارہ کا انتخاب ہونا چاہیے تھا۔
سابق رکن پارلیمان اور اداکارہ رمیا (دیویا سپندنا) نے بھی اس فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ رمیا نے کہا کہ ہر کنڑ اباشندہ میسور وصندل صابن کا قدرتی سفیر ہے، اور کروڑوں روپے خرچ کرنا ٹیکس دہندگان کے پیسے کا ضیاع ہے۔ ان کے مطابق اگر مصنوعات معیاری ہوں تو انہیں کسی مشہور شخصیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
صارفین اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس انتخاب پر سوالات اٹھائے ہیں اور پوچھا ہے کہ جب ریاست میں رشمی کا مندنا، رُکمنی واسنتھ اور سرینیدھی شیٹی جیسی مقامی اداکارائیں موجود ہیں تو ایک غیر کنڑ ااداکارہ کو کیوں منتخب کیا گیا؟
وزیر صنعت ایم بی پاٹل نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کاروباری حکمت عملی ہے جس کا مقصد برانڈ کو عالمی سطح پر متعارف کرانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کنڑا اداکاراؤں سے رابطہ کیا گیا تھا لیکن وہ دستیاب نہیں تھیں، اور مستقبل میں ہالی ووڈ اداکاراؤں کو بھی برانڈ ایمبیسیڈر بنانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
یہ تنازعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح مقامی ثقافت اور شناخت کو عالمی مارکیٹنگ کی حکمت عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔