ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / آندھرا پردیش انتخابات میں دھاندلی کے الزامات؛ رات 2 بجے تک ووٹنگ، 6 سیکنڈ میں ایک ووٹ پر بڑا سوال

آندھرا پردیش انتخابات میں دھاندلی کے الزامات؛ رات 2 بجے تک ووٹنگ، 6 سیکنڈ میں ایک ووٹ پر بڑا سوال

Sat, 04 Apr 2026 18:30:21    S O News

نئی دہلی، 4/ اپریل (ایس او نیوز)آندھرا پردیش اسمبلی انتخابات 2024 کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں ووٹنگ کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا گیا کہ آدھی رات کے بعد بھی بڑے پیمانے پر ووٹنگ جاری رہی اور غیر معمولی رفتار سے ووٹ ڈالے گئے۔

ماہرِ معاشیات پراکالا پربھاکر نے دعویٰ کیا کہ ریاست بھر کے تقریباً 3,500 پولنگ بوتھس پر ووٹنگ رات 2 بجے تک جاری رہی۔ ان کے مطابق دستیاب اعداد و شمار ایک تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں، جس کے تحت تقریباً 4.16 فیصد ووٹ رات 11:45 بجے سے صبح 2 بجے کے درمیان ڈالے گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شام 8 بجے سے صبح 2 بجے تک تقریباً 52 لاکھ ووٹ ریکارڈ کیے گئے، جبکہ صرف آدھی رات کے بعد ہی 17 لاکھ سے زائد ووٹ ڈالے گئے۔ پربھاکر کے مطابق سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ آدھی رات کے بعد ہر 20 سیکنڈ میں ایک ووٹ درج کیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) کو ری سیٹ ہونے میں تقریباً 14 سیکنڈ لگتے ہیں، تو صرف 6 سیکنڈ میں ووٹ ڈالنا کیسے ممکن ہے؟ کیا کوئی ووٹر اتنے کم وقت میں اندر جا کر ووٹ ڈال کر باہر آسکتا ہے؟ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ رات 8 بجے کے بعد کچھ غیر معمولی ضرور ہوا ہے۔

یاد رہے کہ ان انتخابات میں این ڈی اے اتحاد، جس کی قیادت چندرا بابو نائیڈو کی تلگو دیشم پارٹی (TDP) کر رہی تھی، نے زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے 175 میں سے 164 نشستیں جیت لیں۔ ٹی ڈی پی نے 135، بی جے پی نے 8 جبکہ پون کلیان کی جن سینا پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کیں، جس کے بعد چندرا بابو نائیڈو چوتھی بار آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ بنے۔

انتخابات کے دوران ووٹر ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار بھی متنازع رہے۔ 13 مئی 2024 کو پولنگ ختم ہونے کے بعد شام 5 بجے چیف الیکٹورل آفیسر نے 68.04 فیصد ووٹنگ کی اطلاع دی، جبکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) نے رات 8 بجے اسے 68.12 فیصد بتایا۔ بعد ازاں رات 11:45 بجے یہ شرح بڑھا کر 76.50 فیصد کر دی گئی، اور چار دن بعد جاری کیے گئے حتمی اعداد و شمار میں ووٹنگ کی شرح 81.79 فیصد بتائی گئی۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کو بے ضابطگیوں پر اعتراض تھا تو انہیں قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا، تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دو سال بعد اس طرح کے اعداد و شمار سامنے لانا غیر آئینی ہے۔

پریس کانفرنس میں سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے انتخابی عمل میں شفافیت کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فارم 17C، جس میں ہر بوتھ پر ڈالے گئے ووٹوں کی تفصیلات ہوتی ہیں، کو عوام کے سامنے کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ووٹر لسٹ کو ایسے فارمیٹ میں جاری نہیں کیا گیا جس سے آزادانہ جانچ ممکن ہو سکے۔

بھوشن نے کہا کہ شفافیت کی مزاحمت ایک گہرے ادارہ جاتی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے اور جمہوریت اندھیرے میں نہیں چل سکتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وی وی پیٹ (VVPAT) پرچیوں کی لازمی گنتی کو یقینی بنایا جائے تاکہ انتخابی عمل کی ساکھ برقرار رہے۔

سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے انتخابی ریکارڈ، بشمول فارم 17C اور فارم 20، کا آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر فارم 17C کو بوتھ سطح پر دستخط اور مہر کے ساتھ محفوظ کیا جاتا ہے تو بعد میں مجموعی اعداد و شمار میں فرق کیوں ظاہر ہوتا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پولنگ فیصد اسی دن ظاہر کیا جائے اور ہر بوتھ کی تفصیلات فوری طور پر جاری کی جائیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔


Share: