ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہبلی : لو جہاد کا الزام - مسلم نوجوان کو پیٹنے پر علاقے میں کشیدگی

ہبلی : لو جہاد کا الزام - مسلم نوجوان کو پیٹنے پر علاقے میں کشیدگی

Sat, 04 Apr 2026 19:57:14    S O News
ہبلی : لو جہاد کا الزام - مسلم نوجوان کو پیٹنے پر علاقے میں کشیدگی

  ہبلی ،4 / اپریل (ایس او نیوز) ایک مسلم نوجوان پر 'لو جہاد' کا الزام لگاتے ہوئے اسے پیٹنے اور پولیس کے حوالے کرنے کے ساتھ علاقے میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب لڑکی کے رشتے داروں اور مبینہ ملزم کے گھر والوں نے ایک دوسرے پر حملہ کر دیا اور کئی ہندو تنظیموں کے نمائندوں نے کل شام تک شہر میں احتجاجی مظاہرہ کیا ۔  

موصولہ رپورٹ کے مطابق ہبلی میں وجیا نگر کا رہنے والا سمیر ملّا ایک جم ٹرینر ہے جس پر پٹّیگار طبقہ کی ایس ایس کے سماج نامی تنظیم کے اراکین نے اپنے طبقے کی لڑکی کا جنسی استحصال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے حملہ کیا اور اس کی پیٹائی کر دی ۔ سمیر کو گہری چوٹیں آنے کی وجہ سے علاج کے لئے کے ایم سی آر آئی ہاسپٹل میں داخل کیا گیا ہے ۔
    
دوسری طرف لڑکے کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ  گزشتہ تین سال سے سمیر کے ساتھ مذکورہ لڑکی تعلقات ہیں اور لڑکی کے والدین اس سے پوری طرح باخبر ہیں ۔ 
    
بتایا جاتا ہے کہ جمعہ کے ایس ایس کے اور دیگر ہندو تنظیموں کے اراکین نے سمیر کو گھر سے باہر لے جا کر پیٹائی کر دی اور اس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ۔ اسی کے ساتھ وہ لوگ سمیر کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ 
    
اسی دوران سوشیل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوگئی ہے جس میں لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ اسے نشہ آور چیز پلانے کے بعد سمیر نے اس کے ساتھ جنسی استحصال کیا ہے ۔ اس بارے میں ملزم سمیر کا کہنا ہے کہ لڑکی بے قصور ہے، لیکن اس کے گھر والے اور دوسرے لوگ اسے زبردستی الزام لگانے پر مجبور کر رہے ہیں ۔ 

ان حالات کے پس منظر میں پرانی ہبلی پولیس اسٹیشن کے علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی جہاں ہندوتوا وادی کارکنان نے 'لو جہاد ' پر روک لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرا کیا ۔ 
    
اس ضمن میں لڑکی کے گھر والوں، ایس ایس کے کمیونٹی اور لڑکے کے گھر والوں کی طرف سے پولیس کے پاس الگ الگ شکایتیں درج کروائی گئی ہیں ۔ 
    
پولیس کمشنر این ششی کمار اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران حالات کی نگرانی کر رہے ہیں ۔ 


Share: