ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بینگلورو کی عدالت سے مصنف کے ایس بھگوان کو بڑی راحت، توہین مذہب کا مقدمہ خارج

بینگلورو کی عدالت سے مصنف کے ایس بھگوان کو بڑی راحت، توہین مذہب کا مقدمہ خارج

Tue, 10 Jun 2025 17:27:59    S O News

بینگلورو ، 10 جون (ایس او نیوز / ایجنسی)معروف مصنف اور دانشور کے ایس بھگوان کے خلاف توہین مذہب کے مقدمہ میں بینگلورو کی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے ’رام مندر کیوں نہیں چاہیے؟‘ کے عنوان سے لکھی گئی کتاب کے سلسلہ میں ان پر عائد تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر بری کر دیا ہے۔

یہ مقدمہ وکیل میرا راگھویندر کی طرف سے دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے الزام لگایا تھا کہ کتاب میں استعمال کی گئی زبان سے ہندو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور مصنف نے بھگوان رام کی توہین کی ہے۔ میرا کی شکایت پر آئی پی سی کی دفعات 298 اور 505 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے کیس بینگلورو کی 37ویں ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ایم. سیّد عرفات ابراہیم کی عدالت میں پیش ہوا تھا۔

تاہم پیر، 9 جون کو عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کے ایس بھگوان کو بری کر دیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایک مشابہ مقدمے میں بھگوان کو عدالت نے کلین چٹ دی تھی۔ دونوں مقدمات میں ممتاز وکیل سی ایچ ہنومنت رائے نے بھگوان کی پیروی کی۔

اس مقدمے سے جڑا ایک اور اہم واقعہ اُس وقت پیش آیا جب بھگوان عدالت میں پیشی کے لیے آئے تھے۔ اس موقع پر وکیل میرا راگھویندر نے ان کے چہرے پر سیاہی پھینکی تھی۔ اس غیر اخلاقی حرکت کے خلاف کے ایس بھگوان نے ریاستی وکلا کونسل میں شکایت درج کروائی۔ معاملے کی تحقیقات کے بعد وکلا کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی نے میرا کو پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے تین ماہ تک عدالت میں وکالت کرنے پر پابندی لگا دی۔

مزید برآں، کے ایس بھگوان نے یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ میرا راگھویندر نے انہیں دھمکی دی تھی کہ وہ ایم ایم کلبرگی اور گوری لنکیش کی طرح قتل کر دیے جائیں گے۔ اس سنگین دعوے پر وکلا کونسل نے علیحدہ انکوائری کی، جس میں میرا کو ذمہ دار پایا گیا۔

یہ فیصلہ نہ صرف مصنف کے ایس بھگوان کے لیے بڑی قانونی جیت ہے بلکہ آزادی اظہار اور عدالتی وقار کے تحفظ کے حوالے سے بھی ایک اہم نظیر مانا جا رہا ہے۔


Share: