بنگلورو، 10 جون (ایس او نیوز/ایجنسی): آئی پی ایل 2025 کی فاتح ٹیم رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کی جانب سے منعقدہ جشن کے دوران پیش آئے بھیانک بھگدڑ سانحہ پر قانونی کارروائی کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جس میں اب کرناٹک ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے سخت سوالات کیے ہیں۔ عدالت نے آر سی بی کے مارکیٹنگ ہیڈ کی گرفتاری پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے تین اہم سوالات کیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، آر سی بی کے مارکیٹنگ ہیڈ نے اپنی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عدالت میں عرضی داخل کی تھی، جس پر 9 جون کو سماعت ہوئی۔ عرضی دہندہ کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ نے ایک پریس کانفرنس میں آر سی بی، ڈی این اے اور کے ایس سی اے کے افسران کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا، اور اسی بنیاد پر گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ پولیس کے پاس عرضی دہندہ کو گرفتار کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ کیا واقعی وزیر اعلیٰ نے پریس کانفرنس میں 'گرفتار کرو' کے الفاظ استعمال کیے تھے؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ اصل مسئلہ نہیں ہے، مگر عدالت نے اس سوال پر زور دیتے ہوئے تصدیق طلب کی۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ اس کی تصدیق بعد میں کریں گے۔
عدالت نے ریاستی حکومت سے تین واضح سوالات کیے:
کیا وزیر اعلیٰ نے واقعی گرفتاری کی ہدایت دی تھی؟
اگر گرفتاری سی سی بی (سنٹرل کرائم برانچ) نے کی تو کس قانونی اختیار کے تحت؟
کب اس کیس کی جانچ سی آئی ڈی کو منتقل کی گئی؟
عرضی دہندہ کے وکیل نے بتایا کہ ان کے مؤکل کو صبح 4:30 بجے گرفتار کیا گیا، اس کے بعد 4:50 بجے ڈی این اے کمپنی کے دو دیگر افراد اور 5:00 بجے ایک اور شخص کو حراست میں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری سے قبل کی گئی جانچ محض گرفتاری کو جواز دینے کے لیے کی گئی تھی، اور گرفتاری کی کوئی معقول یا قانونی بنیاد پیش نہیں کی گئی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس اسٹیشن میں کم از کم یہ تو بتایا جانا چاہیے تھا کہ گرفتاری کی بنیاد کیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ یہ انفرادی آزادی کا معاملہ ہے، اور ریاستی حکومت کو فوری طور پر اس پر وضاحت دینی ہوگی۔ عبوری راحت کی عرضی پر عدالت نے منگل کی صبح 10:30 بجے حکم سنانے کا عندیہ دیا ہے۔
یہ کیس اب نہ صرف قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو گیا ہے بلکہ سیاسی و انتظامی سطح پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، جن کے جوابات حکومت کو عدالت میں دینا ہوں گے۔