بیدر، 16 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) ضلع بیدر میں عوامی مقامات پر بھیک مانگنے والے افراد کے خلاف ایک منظم اور انسان دوست مہم کا آغاز کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے 19 افراد کو ریسکیو کیا ہے، جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔ اس کارروائی کی نگرانی خود ڈپٹی کمشنر شلپا شرما نے کی، جنہوں نے اس مہم کو انسانی وقار، قانونی ضابطوں اور سماجی بہتری کا حصہ قرار دیا۔
ریسکیو کیے گئے 19 افراد میں 14 بچے شامل ہیں۔ ان میں سے دو بچوں کو طبی جانچ کے لیے بریمس (ضلع اسپتال) میں داخل کیا گیا ہے، جبکہ باقی 12 بچوں اور 3 خواتین کو ضلع خواتین و اطفال فلاح و بہبود محکمہ کے تحت قائم سانتونا مرکز میں رکھا گیا ہے۔ مزید 2 مردوں کو بیدر میونسپل کارپوریشن کے بحالی مرکز میں منتقل کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ 13 جولائی کو صبح 10:30 بجے تمام ریسکیو شدہ افراد کو ضلع چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں قانونی مشاورت کے بعد تحفظ اور بازآبادکاری کے اقدامات کیے گئے۔
شلپا شرما نے اس موقع پر کہا کہ بھیک مانگنے کا رجحان بیدر شہر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، خاص طور پر مندروں، بس اسٹینڈوں اور دیگر عوامی مقامات پر چھوٹے بچوں کو کرائے پر لے کر بھیک منگوائی جا رہی ہے یا خواتین کو نومولود بچوں کے ساتھ بھیک مانگتے دیکھا جا رہا ہے، جو کہ نہ صرف ایک سماجی اور اخلاقی مسئلہ ہے بلکہ قانونی اعتبار سے بھی جرم ہے۔
اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے 11 جولائی کو ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس میں بھیک مانگنے پر پابندی ایکٹ 1975 کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ایک ٹاسک فورس کمیٹی تشکیل دی گئی اور تمام متعلقہ محکموں کو سختی سے قانون پر عمل درآمد کی ہدایت دی گئی۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صرف قانونی کارروائی کافی نہیں، بلکہ بھکاریوں کو بحال کرنا، انہیں تحفظ دینا اور ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی بھی لازمی ہے۔ اس کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ سماجی اداروں، تنظیموں اور عوام کو بھی آگے آنا ہوگا۔
انہوں نے اپیل کی کہ اگر کسی بھی مقام پر کوئی بچہ یا فرد بھیک مانگتے ہوئے نظر آئے تو فوری طور پر چائلڈ ہیلپ لائن 1098 پر اطلاع دی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بچوں کو بھیک کے لیے استعمال کرنا جووینائل جسٹس ایکٹ 2015 کے تحت قابل سزا جرم ہے، جس کے تحت 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ بیدر کی بیٹرمنٹ فاؤنڈیشن نامی تنظیم اب تک تقریباً 70 بھکاریوں کو راشن فراہم کر چکی ہے اور ان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے کام کر رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے دیگر سماجی تنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم میں شامل ہو کر انسانی ہمدردی کے اس کام کو مزید مؤثر بنائیں۔