ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / او بی سی مشاورتی کمیٹی کی پہلی میٹنگ، ذات پر مبنی مردم شماری کی پرزور حمایت

او بی سی مشاورتی کمیٹی کی پہلی میٹنگ، ذات پر مبنی مردم شماری کی پرزور حمایت

Wed, 16 Jul 2025 17:56:41    S O News

بنگلورو، 16 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا کی زیر صدارت آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی او بی سی مشاورتی کمیٹی کی پہلی میٹنگ بنگلورو میں منعقد ہوئی، جس میں ذات پر مبنی مردم شماری کی پرزور حمایت کی گئی۔ سدارامیا نے اسے ایک تاریخی آغاز قرار دیتے ہوئے راہل گاندھی کو سماجی انصاف کا "سپاہی" قرار دیا اور ان کی جدوجہد کو سراہا۔

میٹنگ کے بعد جاری کردہ "بنگلورو اعلامیہ" میں کہا گیا کہ راہل گاندھی نے او بی سی طبقات کے حقوق کے لیے مسلسل آواز اٹھائی ہے، جس کی بدولت مرکزی حکومت پر ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا دباؤ پڑا۔ اعلامیہ میں تجویز دی گئی کہ مردم شماری میں ہر شخص کی سماجی، تعلیمی، معاشی اور سیاسی تفصیلات کو شامل کیا جائے، اور تلنگانہ کے کاسٹ سروے کو ماڈل بنایا جائے۔ ساتھ ہی موجودہ 50 فیصد ریزرویشن کی حد کو ختم کر کے او بی سی کو تمام شعبوں میں مناسب نمائندگی دی جائے۔ نجی تعلیمی اداروں میں بھی او بی سی کے لیے آئین کے آرٹیکل 15(5) کے تحت ریزرویشن لاگو کرنے کی سفارش کی گئی۔

وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ان کی 2015 کی حکومت نے سماجی و اقتصادی سروے کرایا تھا، مگر ایچ ڈی کماراسوامی کی قیادت والی بعد کی حکومت نے رپورٹ قبول نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ او بی سی کمیشن کو نئی مردم شماری کے لیے تین ماہ کا وقت دیا گیا ہے تاکہ ناقص پرانی رپورٹ کی جگہ نئے اعداد و شمار اکٹھا کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ کرناٹک وہ پہلا ریاست ہے جس نے 1931 کے بعد ذات پر مبنی مردم شماری کا عمل شروع کیا، جسے آج ’کرناٹک ماڈل‘ کہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی مہم صرف ذاتوں کی گنتی نہیں بلکہ سماجی و اقتصادی برابری کا منصوبہ ہے۔

او بی سی ونگ کے قومی صدر ڈاکٹر انیل جے ہند نے کہا کہ سدارامیا اس وقت کانگریس میں واحد او بی سی وزیر اعلیٰ ہیں اور پارٹی میں انہیں تبدیل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوری پارٹی قیادت سدارامیا کے ساتھ کھڑی ہے۔


Share: