بینگلورو ، 20 / جولائی (ایس او نیوز): کرناٹک حکومت نے دکشن کنڑا ضلع کے دھرمستھلا پولیس اسٹیشن میں درج مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر دفنائی گئی لاشوں سے متعلقہ کیس کی ایک جامع اور غیر جانبدارانہ جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے ۔
یہ اقدام کرناٹک ریاستی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن کی ایک باضابطہ درخواست کے بعد کیا گیا ہے، جس نے ایک شخص کے حالیہ عدالتی بیان کا حوالہ دیا جس میں دھرمستھلا کے علاقے میں دفن کی گئی سینکڑوں لاشیں موجود ہونے کا الزام لگایا گیا تھا ۔
قومی سطح کے مختلف ذرائع ابلاغ میں 12 جولائی کو نشر کیے جانے والے اس دھماکہ خیزالزام نے بڑے پیمانے پر تشویش کو جنم دیا ہے جس میں خاص طور پر میڈیکل کالج کی ایک لاپتہ طالبہ کے اہل خانہ کی جانب سے کیے گئے دعووں اور آس پاس میں انسانی کھوپڑی کی دریافت کی روشنی میں عصمت دری، قتل، غیر فطری موت، گمشدگی، اور کئی خواتین اور طالبات کے ساتھ بدسلوکی سمیت دیگر سنگین جرائم کی 20 سالہ تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔
اسی پس منظر میں ریاستی حکومت کی طرف سے 19 جولائی کو جاری کیے گئے حکم نامے میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل کرتے ہوئے اس سنسنی خیز معاملے کی تفتیش کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ نو تشکیل شدہ ایس آئی ٹی جلد ہی اپنا چارج سنبھالے گی اور کسی بھی متعلقہ کیس کی بھی تحقیقات کرے گی جو ریاست کے دیگر تھانوں میں درج ہوئے ہیں یا پھر سامنے آسکتے ہیں ۔
ریاستی حکومت کی جانب سے سنگین الزامات کی مکمل جانچ کے لیے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کی قیادت سینئر آئی پی ایس افسر ڈاکٹر پرناو موہنتی، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس[انٹرنل سیکیوریٹی ڈویژن] بنگلورو کریں گے ۔ اس کے علاوہ
ایم این انوچھیتھ، آئی پی ایس، ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ریکروٹمنٹ) بنگلورو، سومیا لتا، آئی پی ایس، ڈپٹی کمشنر آف پولیس، سی اے آر ہیڈکوارٹر، بنگلورو، جتیندر کمار دیاما، آئی پی ایس، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، انٹرنل سیکیوریٹی ڈویژن، بنگلورو اس تحقیقاتی ٹیم میں شامل رہیں گے ۔
ایس آئی ٹی بنیادی طور پر اس معاملے کی تفتیش کرے گی جو جرم نمبر 39/2025 بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 211(a) کے تحت دھرمستھلا پولیس اسٹیشن میں درج ہے ۔ لیکن اسے صرف اس کیس کی ہی نہیں بلکہ کرناٹک بھر میں رجسٹرڈ یا درج ہونے والے تمام متعلقہ مجرمانہ مقدمات کی تحقیقات کرنے کا کام سونپا گیا ہے جن میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران لاپتہ خواتین، غیر فطری موت، یا مشتبہ زیادتی کے معاملے شامل ہیں ۔
ڈائریکٹر جنرل اور انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی اور آئی جی پی) کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ معاملوں کو تفتیش کے لئے ایس آئی ٹی کو منتقل کریں اور ضرورت کے مطابق اضافی افسران اور عملہ فراہم کریں ۔
ایس آئی ٹی دکشن کنڑا ضلع پولیس ہیڈ کوارٹر میں دستیاب وسائل کا استعمال کرتے ہوئے کام کرے گی اور اسے ڈی جی اور آئی جی پی کو تفتیش کی پیش رفت کے بارے میں وقتاً فوقتاً رپورٹ پیش کرنا ہوگا ۔ اس کے بعد ایک حتمی رپورٹ جلد از جلد ڈی جی پی کے توسط سے حکومت کو پیش کی جائے گی ۔