بنگلورو، 15 جون (ایس او نیوز / ایجنسی): کرناٹک میں بائیک ٹیکسی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں، جیسے اولا اور اوبر، کو جزوی راحت ملی ہے، کیونکہ ہائی کورٹ نے ریاست بھر میں بائیک ٹیکسیوں پر مکمل پابندی لگانے کے سنگل جج کے حکم پر عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔
قائم مقام چیف جسٹس وی. کامشورا راؤ اور جسٹس سرینواس ہریش کمار پر مشتمل بنچ نے جمعہ کے روز اے این آئی ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ (اولا) اور اوبر کی طرف سے داخل کردہ اپیلوں پر سماعت کی۔ ان اپیلوں میں 2 اپریل کو جسٹس بی. شیام پرساد کی طرف سے دیا گیا وہ حکم چیلنج کیا گیا تھا جس میں ریاست بھر میں بائیک ٹیکسی خدمات کو چھ ہفتوں کے اندر بند کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
بنچ نے کہا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے اس معاملے پر پالیسیاں متعارف کرائے جانے کے پیش نظر عدالت کی جانب سے اس مرحلے پر مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر ریاست صرف قواعد و ضوابط کے تعین میں تاخیر کرے گی تو پابندی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 جون تک تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے، اور کہا ہے کہ معاملے کی مکمل سماعت 24 جون کو میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی۔
سماعت کے دوران اپیل کنندگان کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ دھیان چننپا نے عدالت کے سامنے دلیل دی کہ موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کے تحت دو پہیہ گاڑیاں ‘موٹر کیب’ کے زمرے میں آتی ہیں، اور موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت انہیں ٹیکسی کے طور پر چلایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "میرے خیال میں اس کے لیے کسی نئے قاعدے کی ضرورت نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے بھی دو پہیہ گاڑیوں کو بطور ٹرانسپورٹ وہیکل تسلیم کیا ہے، لہٰذا جیسے چار پہیہ گاڑیاں ریاستی قوانین کی بنیاد پر چلائی جا رہی ہیں، ویسے ہی دو پہیہ گاڑیاں بھی چلنی چاہئیں۔"
عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ یہ معاملہ عام لوگوں کی روزی روٹی اور مفاد عامہ سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے 24 جون کو فیصلہ سنایا جائے گا۔