کرنول،26/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) آندھرا پردیش کے شہر کرنول کے قریب جمعہ کی علی الصبح پیش آئے خوفناک بس حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کی شناخت کے لیے ڈی این اے میچنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ آندھرا پردیش فارینسک سائنس لیبارٹری (APFSL) کے ماہرین نے ہفتہ کے روز (25 اکتوبر) سے اس کام کا آغاز کیا۔
یہ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب بنگلورو کی سمت جانے والی ایک پرائیویٹ بس نیشنل ہائی وے پر چینّا ٹیکور گاؤں کے قریب ایک دو پہیہ گاڑی سے ٹکرا گئی، جس کے بعد بس میں آگ بھڑک اُٹھی۔ اس دلخراش واقعے میں 19 مسافر زندہ جل کر ہلاک ہوگئے۔
واقعے کے فوراً بعد 16 ٹیمیں، جن کی قیادت اے پی ایف ایس ایل کے ڈائریکٹر جی۔ پالا راجو کر رہے تھے، جائے حادثہ پر پہنچیں اور متاثرہ افراد کے ڈی این اے کے نمونے محفوظ کیے۔ ان ٹیموں میں دو جوائنٹ ڈائریکٹر، چار اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور کئی سائنسی ماہرین شامل تھے۔
تحقیقات سے وابستہ ایک افسر نے بتایا کہ چونکہ بیشتر لاشیں بری طرح جھلس چکی تھیں اور ان کی شناخت ممکن نہیں تھی، اس لیے انہیں اسپتال کے مردہ خانے میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ لاشیں ڈی این اے تجزیے کے بعد ہی لواحقین کے حوالے کی جائیں گی۔
ڈائریکٹر جی۔ پالا راجو نے بتایا کہ 18 مہلوکین کے نرم بافتوں (soft tissues) اور ان کے اہل خانہ کے خون کے نمونے لیے گئے ہیں، جب کہ کئی لاشیں راکھ میں تبدیل ہوچکی تھیں، اس لیے تمام 19 لاشوں کی ہڈیوں کے نمونے بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امراوتی میں واقع اے پی ایف ایس ایل لیب میں ڈی این اے ایکسٹریکشن کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ایک لاش کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی، اس لیے اس کا ڈی این اے محفوظ رکھا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص دعویٰ کرے تو اس کے خون کے نمونے سے میچنگ کے بعد لاش حوالے کی جائے گی۔
پالا راجو کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں میں ڈی این اے میچنگ کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد پولیس متعلقہ لاشیں لواحقین کے حوالے کرے گی۔
یہ حادثہ ریاست میں اب تک کے بدترین سڑک حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے نہ صرف کرنول بلکہ پورے آندھرا پردیش کو سوگوار کر دیا ہے۔