ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کرنول بس حادثہ: مسافروں نے کہا، ڈرائیورز نے آگ کے بارے میں اطلاع دی ہوتی تو لوگوں کی جانیں بچ سکتی تھی

کرنول بس حادثہ: مسافروں نے کہا، ڈرائیورز نے آگ کے بارے میں اطلاع دی ہوتی تو لوگوں کی جانیں بچ سکتی تھی

Sat, 25 Oct 2025 19:16:49    S O News
کرنول بس حادثہ: مسافروں نے کہا، ڈرائیورز نے آگ کے بارے میں اطلاع دی ہوتی تو لوگوں کی جانیں بچ سکتی تھی

کرنول ، 26/ اکتوبر (ایس او نیوز) کرنول ضلع کے چنّا ٹیکورو میں پیش آنے والے خوفناک بس حادثے کے زندہ بچ جانے والے مسافروں نے دعویٰ کیا ہے کہ بس کے ڈرائیورز مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہے اور مسافروں کو آگ کے بارے میں بروقت اطلاع نہیں دی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈرائیورز نے بس کے دروازے کھولنے اور مسافروں کو خبردار کرنے کی کوشش کی ہوتی تو مسافروں کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

مسافر اشوین نے بتایا کہ وہ جمعرات کی رات تقریباً 9:40 بجے Kukatpally کے قریب بس میں سوار ہوئے۔ اشوین کی نشست ڈرائیور کی سیٹ کے بالکل پیچھے تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بس جڈچرلہ Jadcherla  میں چائے کے وقفے کے لیے رکی اور پھر بنگلورو کی طرف روانہ ہوئی۔ “میں نے ایک دھماکے جیسا  آواز  سنی اور بس میں دھواں دیکھ کر ہوش کھو دیا۔ ہم نے دروازے توڑنے اور باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔” 

اشوین نے مزید بتایا کہ انہوں نے اور دیگر مسافروں نے شور مچایا اور آگ کے بارے میں دوسروں کو خبردار کیا۔ “میں نے ڈرائیور کو دیکھا کہ وہ پانی کی بوتل سے آگ پر چھڑکاؤ کر رہے تھے، لیکن یہ آگ کو قابو میں نہیں کر سکا۔ میں نے باقی مسافروں کو کھڑکیاں توڑنے کی ہدایت دی اور ڈرائیور کے دروازے سے باہر نکل کر اپنی جان بچائی۔ میرے خیال میں ڈرائیورز کو مسافروں کو آگ کے بارے میں اطلاع دینی چاہیے تھی اور مین دروازہ کھولنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔”

ایک اور مسافر، سوریہ، نے بتایا کہ بس کے سڑک کنارے رکنے کے چند منٹ بعد ہی دھواں بس میں پھیلنا شروع ہو گیا۔ “ہمیں سانس لینا اور دیکھنا مشکل ہو رہا تھا۔ کچھ لوگ جو بس کے پیچھے کار میں آئے، انہوں نے پچھلی کھڑکیاں توڑ کر ہماری جانیں بچائیں۔”

31 سالہ آکاش، جو کرناٹک میں ایک پینٹ کمپنی میں کام کرتے ہیں اور اوپری  برتھ پر سفر کر رہے تھے، نے کہا کہ “آگ لگنے کے بعد میں نے بس کے ڈرائیورز کو نہیں دیکھا۔ انہیں مسافروں کو آگ کے بارے میں اطلاع دینی چاہیے تھی، لیکن وہ بس کے قریب بھی نہیں تھے۔”

50 سالہ ایم جی راما ریڈی، جواوپری  برتھ پر سفر کر رہے تھے، نے بتایا کہ وہ بس کے پچھلے حصے میں ہونے کی وجہ سے اپنی جان بچا سکے۔’’ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ راستہ دھوئیں سے بھرا ہوا ہے اور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں پچھلی کھڑکی تک پہنچا جہاں سے لوگ کود رہے تھے۔ کسی نے مجھے باہر کھینچا اور میں زمین پر گر گیا جس سے میرے چہرے پر ہلکی چوٹیں آئیں‘‘

مسافروں کے یہ بیانات بس ڈرائیورز کی غفلت اور حفاظتی انتظامات میں کوتاہی کی نشاندہی کرتے ہیں، اور اس حادثے نے نجی بس آپریشنز میں حفاظتی پروٹوکول پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یاد رہے کہ اس حادثے میں بس کے 19 مسافر اور ایک بائک سوار کے بشمول جملہ 20 لوگ ہلاک ہوئے جبکہ دونوں بس ڈرائیورس موقع پر سے فرار ہوگئے جس میں بعد میں ایک ڈرائیور کو پولس نے گرفتار کرلیا۔ حادثے کو لے کر بھی متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں، ابتدائی رپورٹ میں کہا جارہا تھا کہ بس اور بائک کی امنے سامنے ٹکر ہوئی تھی، مگر اب کہا جارہا ہے کہ بس نے پیچھے سے بائک کو ٹکر ماری تھی اور اسے قریب 400 میٹر تک گھسٹتے یوئے لے گئی تھی جس کی وجہ سے چنگاریاں اٹھیں اور پہلے بائک کے پٹرول ٹینک میں آگ لگی، پھر بس کی فیول ٹینکی میں اگ لگ جانے سے حادثہ قابو سے باہر ہوگیا۔


Share: