میسورو، 19 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)وزیراعلیٰ کرناٹک سدارامیا نے کہا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں اور ریاستی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو پوری قوت سے جاری رکھے گی۔ انہوں نے یہ بات میسورو ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ میسورو میں ہونے والا کانگریس کا جلسہ صرف سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں، بلکہ ریاست میں حکومت کی جانب سے مکمل کیے گئے ترقیاتی کاموں کی جھلک پیش کرنے کا موقع ہے۔ اس موقع پر تقریباً 2600 کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا جائے گا۔
سدارامیا نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہی ہے، جبکہ خود عوامی فلاح کے شعبے میں اس کا ریکارڈ خاموشی کا متقاضی ہے۔
بنگلورو کے چنا سوامی اسٹیڈیم میں رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کی فتح کے جشن کے دوران پیش آئے بھگدڑ کے سانحہ پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کی رپورٹ آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کی جائے گی، اور اس کی روشنی میں مناسب فیصلہ لیا جائے گا۔
دھرمستھلا میں پیش آئے ایک پرانے اور حساس واقعے پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کسی دباؤ میں آئے بغیر مکمل قانونی کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ شخص نے تقریباً 10 سال بعد بیان دیا ہے، اور اس معاملے میں ایس آئی ٹی جانچ کے امکانات پر غور جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔
کرشنا ندی کے پانی کی تقسیم پر وزیراعلیٰ نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ہے۔ یہ ایک بین ریاستی تنازعہ ہے جس میں کرناٹک، آندھرا پردیش اور تلنگانہ شامل ہیں۔ سدارامیا نے یقین دلایا کہ کرناٹک کے مفادات محفوظ رہیں گے اور آلمٹی ڈیم کی سطح بڑھانے کی اجازت پہلے ہی دی جا چکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بنگلورو کے تقریباً 40 اسکولوں کو موصول ہونے والی بم کی دھمکیوں کو سنگین قرار دیا اور پولیس کو فوری اور مکمل تحقیقات کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹی دھمکیوں، افواہوں اور اشتعال انگیز بیانات کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔