بنگلورو/ٹمکورو، 10 جون (ایس او نیوز/ایجنسی): کرناٹک حکومت نے شہر ٹمکورو کو "گریٹر بنگلورو ریجن گورننس اتھارٹی" کے دائرۂ کار میں شامل کرنے کے لیے سنجیدہ قدم اٹھا لیا ہے۔ اس تجویز کو آئندہ دنوں میں ریاستی کابینہ کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ریاستی وزیر داخلہ و ضلع ٹمکور وکے انچارج وزیر ڈاکٹر جی. پرمیشور نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹمکوروریاست کا ایک تیزی سے ترقی پانے والا شہر ہے اور اگر اسے بنگلورو کے توسیعی شہری نظام میں شامل کیا گیا تو یہاں بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور سرمایہ کاری کے مواقع مزید بڑھیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹمکورو کو بنگلورو سے جوڑنے کے لیے میٹرو اور سب اربن ریل منصوبوں پر بھی غور جاری ہے، اور اس سلسلے میں ریاستی حکومت مرکزی وزارت ریلوے کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو بہتر اور تیز رفتار سفری سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
ڈاکٹر پرمیشور نے یہ بھی کہا کہ ٹمکورو میں پینے کے پانی کی قلت، سڑکوں، صفائی اور دیگر شہری مسائل کے حل کے لیے مرکزی فنڈز سے خصوصی اسکیمیں لانے کی کوشش جاری ہے۔ انہوں نے علاقے میں قومی شاہراہ پر ’ویلکم آرچ‘ کی تنصیب اور قبرستان کے لیے کمپاؤنڈ مہیا کرانے کا بھی وعدہ کیا۔
واضح رہے کہ حال ہی میں کرناٹک حکومت نے "گریٹر بنگلورو گورننس بل" کو منظوری دی ہے، جس کا مقصد بنگلورو کی سرحدوں سے ملحقہ ترقی پذیر علاقوں کو بہتر شہری نظم و نسق کے تحت لانا ہے۔ اس بل کے ذریعے شہری منصوبہ بندی، پانی، بجلی، صفائی، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی خدمات کو ایک مربوط نظام میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ٹمکورو، جو "چنئی-بنگلورو-چترادرگہ صنعتی راہداری" میں اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، صنعتی امکانات سے بھی مالا مال ہے۔ یہاں کئی صنعتیں پہلے ہی قائم ہیں اور مستقبل میں مزید سرمایہ کاری کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ٹمکور کو گریٹر بنگلورو کا حصہ بنایا جاتا ہے تو یہ فیصلہ نہ صرف شہری ترقی میں مددگار ہوگا بلکہ ریاستی ترقیاتی نقشے میں بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ اس شمولیت کے ذریعے ٹمکور ایک جدید شہری مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔