داونگیرے، 17 جون (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے داونگیرے ضلع میں 1350 کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھ کر بی جے پی کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ کانگریس حکومت کے پاس ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض ایک دن میں اتنے بڑے پیمانے پر اسکیموں کا آغاز بی جے پی کے جھوٹ کا منہ توڑ جواب ہے۔
اس موقع پر مختلف سرکاری محکموں کے ذریعے مستحقین میں سہولیات کی تقسیم بھی عمل میں آئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا: ’’56 انچ کا سینہ بے کار ہے اگر دل میں غریبوں اور متوسط طبقے کے لیے درد نہ ہو۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جب کانگریس نے انتخابی وعدے کے طور پر گارنٹی اسکیموں کا اعلان کیا تھا تو بی جے پی نے انہیں ناقابل عمل قرار دیا تھا، مگر آج پانچوں گارنٹی اسکیمیں کامیابی کے ساتھ نافذ ہیں، اور فائدہ صرف کانگریس حامیوں تک محدود نہیں بلکہ بی جے پی کے ووٹرز بھی ان سے مستفید ہو رہے ہیں۔
سدارامیا نے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت نے بجٹ کا دائرہ بڑھایا ہے اور کرناٹک آج جی ایس ٹی وصولی میں ملک میں دوسرے نمبر پر ہے، جو ریاستی معیشت کی مضبوطی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں عوام کو ایک بھی مکان فراہم نہیں کیا گیا، جبکہ موجودہ حکومت نے صرف داونگیرے میں 1892 مکانات تقسیم کیے ہیں۔
مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ وزیر اعظم کے دور میں مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، اور عوام کو ’اچھے دن‘ صرف ایک نعرہ کی صورت میں دیکھنے کو ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول، ڈیزل، کھاد اور سونے کی قیمتیں مودی حکومت سے پہلے کہاں تھیں اور اب کہاں پہنچ چکی ہیں؟ ان کے مطابق مہنگائی کی اصل وجہ وزیر اعظم کی اقتصادی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔
سدارامیا نے 15ویں مالیاتی کمیشن کے تحت کرناٹک کو 11500 کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام بھی لگایا، اور کہا کہ بھدرا اپر کینال پروجیکٹ کے لیے اعلان کردہ 5000 کروڑ روپے میں سے ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق بی جے پی نے کرناٹک کے ساتھ دھوکہ اور ناانصافی کی ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر میں نے ترقیاتی منصوبوں یا مرکز کی ناانصافی پر جھوٹ بولا ہو، تو دوبارہ کسی عوامی اسٹیج پر خطاب نہیں کروں گا۔‘‘
آخر میں وزیر اعلیٰ نے بی جے پی ریاستی صدر بی وائی وجیندرا اور اپوزیشن لیڈر آر اشوک کو کھلے مباحثے کا چیلنج دیا اور کہا کہ ریاست کی معیشت اور ترقی پر عوامی سطح پر بحث کے لیے وہ تیار ہیں، بی جے پی لیڈران بھی سامنے آکر سچ کا سامنا کریں۔