ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / یمن میں سعودی حملہ، یو اے ای سے کشیدگی اور جنوبی یمن میں نئے بحران کے خدشات

یمن میں سعودی حملہ، یو اے ای سے کشیدگی اور جنوبی یمن میں نئے بحران کے خدشات

Wed, 31 Dec 2025 17:01:20    S O News
یمن میں سعودی حملہ، یو اے ای سے کشیدگی اور جنوبی یمن میں نئے بحران کے خدشات

دبئی 31/ڈسمبر (ایس او نیوز/ایجنسیاں/الجزیرہ) سعودی عرب نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس کی قومی سلامتی ایک “ریڈ لائن” ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے یمن کے جنوب میں واقع مکلا بندرگاہ پر ایک محدود فضائی کارروائی کی، جس میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کو فراہم کی جانے والی فوجی گاڑیوں اور اسلحہ کو نشانہ بنایا گیا۔

سعودی اتحاد کے مطابق، مکلا بندرگاہ پر کی جانے والی یہ کارروائی ایک “محدود فوجی آپریشن” تھا، جس کا مقصد ایسے اسلحہ اور جنگی سازوسامان کو روکنا تھا جو بغیر اجازت بندرگاہ پر اتارا جا رہا تھا اور جسے جنوبی یمن کے علیحدگی پسندوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ سعودی اتحاد کا دعویٰ ہے کہ کارروائی بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت انجام دی گئی اور اس میں کسی قسم کے جانی نقصان یا شہری تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچا۔

یو اے ای پر الزامات اور یمنی قیادت کا سخت ردعمل
یمن کی سعودی حمایت یافتہ صدارتی قیادت کونسل (PLC) نے اس اسلحہ کی ترسیل کا الزام متحدہ عرب امارات (UAE) پر عائد کیا ہے۔ پی ایل سی کے سربراہ رشاد العلیمی نے فضائی حملوں کے بعد ایک سخت بیان میں کہا کہ یمن میں موجود تمام اماراتی افواج کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنا ہوگا۔ انہوں نے اس اقدام کو یمن کی خودمختاری سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ریاستی سلامتی کے تقاضوں کے تحت کیا گیا ہے۔

رشاد العلیمی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے، 72 گھنٹوں کے لیے فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی کے نفاذ اور 90 روزہ ہنگامی حالت کے اعلان کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے سعودی عرب اور اتحادی افواج کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یمن اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

سعودی عرب کا مؤقف
سعودی کابینہ کے حوالے سے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ مملکت اپنی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے “ضروری اقدامات” اٹھانے سے گریز نہیں کرے گی۔ سعودی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ متحدہ عرب امارات یمن کی قیادت کے مطالبات پر ذمہ دارانہ ردعمل دے گا، جبکہ سعودی عرب یمن کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کے لیے اپنی وابستگی برقرار رکھے گا۔

یو اے ای کی وضاحت اور فوجی انخلا
متحدہ عرب امارات نے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یمنی فریقین کے درمیان جاری کشیدگی میں ملوث نہیں اور نہ ہی اس نے کسی گروہ کو سعودی عرب کی سلامتی یا سرحدوں کو نشانہ بنانے کی ہدایت دی ہے۔ اماراتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، حالیہ پیش رفت سے نمٹنے کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ضروری ہے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

بعد ازاں، یو اے ای کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ وہ یمن میں اپنی باقی ماندہ “انسداد دہشت گردی فورسز” کو رضاکارانہ طور پر واپس بلا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ حالیہ صورتحال اور مشنز کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ اماراتی اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

STC کا ردعمل اور جنوبی یمن کی صورتحال
سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے یمنی صدر کے فیصلوں کو غیر قانونی اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے تعبیر کیا ہے۔ STC کے نمائندے نبیل بن لسم نے کہا کہ جنوبی یمن میں سیاسی خلا پیدا کرنے کی کوششیں سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ STC اور اس سے وابستہ جنوبی افواج اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ STC کو غیر مؤثر بنانے کی کوششیں تنظیم کو اپنے عوام کی سلامتی کے لیے دیگر آپشنز پر غور کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں، جس سے جنوبی یمن میں صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔

علاقائی اور عالمی تشویش
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن پہلے ہی ایک طویل اور پیچیدہ جنگ کا شکار ہے۔ مبصرین کے مطابق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی کشیدگی نہ صرف یمن کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے بلکہ خلیجی اتحاد میں بھی دراڑ کا سبب بن سکتی ہے۔
امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے فریقین سے ضبط، سفارتکاری اور سیاسی حل کے تسلسل پر زور دیا ہے تاکہ یمن میں ایک نئے بحران اور ممکنہ خانہ جنگی کو روکا جا سکے۔


Share: