بنگلورو، 14 جون (ایس او نیوز / ایجنسی): کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے دہلی میں 16ویں مالیاتی کمیشن کے ساتھ ایک اہم ملاقات کے دوران ریاست کے لیے انصاف پر مبنی مالیاتی شراکت داری اور مرکزی محصولات میں جائز حصہ دینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقی یافتہ ریاستوں کو سزا نہیں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، کیونکہ وہ قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر اروند پنگاڑیہ اور دیگر اراکین کو ایک جامع یادداشت پیش کی، جس میں ریاست کی اقتصادی شراکت، مالی ضروریات اور ماضی کی مالیاتی ناانصافیوں کو نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک ملک کی مجموعی جی ڈی پی میں 8.7 فیصد حصہ رکھتا ہے اور جی ایس ٹی وصولی میں ملک بھر میں دوسرے نمبر پر ہے، اس کے باوجود ریاست کو مرکزی ٹیکسوں میں فی روپے صرف 15 پیسے کا حصہ دیا جا رہا ہے، جو سراسر غیر منصفانہ ہے۔
سدارامیا نے بتایا کہ 15ویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات کے تحت ریاست کے حصہ داری کو 4.713 فیصد سے کم کر کے 3.647 فیصد کر دیا گیا، جس سے کرناٹک کو تقریباً ₹80,000 کروڑ کا نقصان ہوا۔ انہوں نے 16ویں کمیشن سے اپیل کی کہ ریاستوں کا مرکز کے ساتھ حصہ کم از کم 50 فیصد کیا جائے اور "سیس" اور "سرچارچز" کی حد 5 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔
وزیر اعلیٰ نے کمیشن سے درخواست کی کہ وہ کرناٹک کے فلاحی اقدامات جیسے بزرگوں کو پنشن، مفت دوائیاں، تعلیم اور بنیادی سہولیات کے لیے کیے گئے اخراجات کو بھی مالیاتی تقسیم میں شامل کرے۔ انہوں نے بنگلور کے لیے ₹1.15 لاکھ کروڑ کے انفراسٹرکچر پیکیج، اور ریاست کے پسماندہ علاقوں جیسے "کلیان کرناٹک" اور "ملے ناڈ" کے لیے سرمایہ کاری کی خصوصی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سدارامیا نے کہا کہ موجودہ مالیاتی تقسیم ترقی یافتہ ریاستوں کے لیے سزا بن گئی ہے، جبکہ ان کی ترقی کو نظرانداز کرنے کے بجائے سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مالیاتی نظام میں ایسا توازن ہونا چاہیے جو قومی ترقی میں مددگار ریاستوں کی حوصلہ افزائی کرے، نہ کہ ان کی کوششوں کو کمزور کرے۔
اس ملاقات میں ریاست کے چیف سکریٹری، چیف اکنامک ایڈوائزر بسوراج رایا رڈی، ایڈیشنل چیف سکریٹری انجم پرویز اور محکمہ خزانہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔