گدگ ،26 / مئی (ایس او نیوز) گدگ سے باگلکوٹ جانے کے راستے میں 10 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ڈنڈینا درگمّا مندر میں ہر سال ایک ایسا تہوار منایا جاتا ہے جس کے دوران میں چوری کرنا گناہ نہیں بلکہ ثواب کا کام سمجھا جاتا ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ اس تہوار کے موقع پر کرناٹکا کے اندرونی علاقوں کے علاوہ مہاراشٹرا، آندھرا پردیش اور تلنگانہ جیسی پڑوسی ریاستوں سے ہزاروں بھکت اس تہوار میں شریک ہوتے ہیں ۔ یہ ایک قبائلی تہوار ہوتا ہے جو ایک ہفتے تک چلتا ہے ۔ اس تہوار کے دوران لوگوں کی جیب کاٹنے کے علاوہ زیورات، پرس اور موبائل فونس اڑانے والے چور بڑے پیمانے پر سرگرم ہو جاتے ہیں اور عام طور پر اسے جرم نہیں بلکہ اسے اچھا عمل مانا جاتا ہے ۔
مندر کے تہوار میں شریک ایک بھکت سنجو ہرین شکاری نے بتایا کہ سالانہ تہوار میں شرکت کے لئے ڈانڈینا درگمّا مندر پر ہر سال ہزاروں افراد حاضر ہوتے ہیں ۔ یہاں یہ عقیدہ ہے کہ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو دیوی اس پر نظر عنایت کرتی ہے ۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ تہوار کے دوران میں چوری کی وارداتوں کے خلاف بہت ہی کم شکایتیں درج کی جاتی ہیں ۔ پھر بھی پولیس نے مندر میں آنے والے بھکتوں کو چوکسی برتنے اور اپنے مال و اسباب کی حفاظت کرنے کے سلسلے میں خبردار کیا ہے ۔
پولیس کے مطابق انہوں نے مندر انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ چوری کی وارداتوں پر قابو پانے کے لئے احتیاطی اقدام کے طور پر مندر کے احاطے میں سی سی ٹی وی کیمرے لگوائے ، مگر متنظمین اس کے لئے تیار نظر نہیں آتے ۔