ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپیشل رپورٹس / کرناٹکا میں روزگار کے لحاظ سے مسلمانوں کی حالت خستہ - ذات پر مبنی سروے کی رپورٹ کا خلاصہ؛ محض 1.03% مسلمانوں کے پاس سرکاری ملازمت

کرناٹکا میں روزگار کے لحاظ سے مسلمانوں کی حالت خستہ - ذات پر مبنی سروے کی رپورٹ کا خلاصہ؛ محض 1.03% مسلمانوں کے پاس سرکاری ملازمت

Tue, 20 May 2025 18:38:53    S O News
کرناٹکا میں روزگار کے لحاظ سے مسلمانوں کی حالت خستہ   - ذات پر مبنی سروے کی رپورٹ کا خلاصہ؛ محض 1.03% مسلمانوں کے پاس سرکاری ملازمت

بینگلورو ، 20 / مئی (ایس او نیوز) ریاست کرناٹکا میں سال 2015 میں کیے گئے سماجی و تعلیمی سروے یا ذات پر مبنی مردم شماری رپورٹ کے مطابق مسلمان آبادی کے لحاظ سے ریاست کی سب سے بڑی  اقلیت ہیں، اس لئے ان کے لئے ریزرویشن کوٹا 4 فی صد سے بڑھا کر 8 فی صد کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمان سماجی رتبے کے لحاظ سے جین فرقہ سے قریب ہیں مگر معاش اور روزگار کے لحاظ سے وہ انتہائی پچھڑے مقام پر ہیں ۔
    
سماجی اور تعلیمی سروے یا ذات پر مبنی سروے میں مسلمانوں کو پسماندگی کے 200 نمبرات میں سے 89.25 نمبر دئے گئے ہیں ۔ مسلمانوں کو 93.20 نمبرات رکھنے والے یادو (گولّا) طبقے سے نیچے کا درجہ ملا ہے ۔ خیال رہے کہ جس طبقے کے نمبرات جتنے زیادہ ہونگے اسے اتنا ہی پچھڑا ہوا مانا جائے گا ۔
    
سماجی درجے کے لحاظ سے مسلمانوں کو 100 میں سے 19.71 نمبر دئے گئے ہیں جو کہ 19.73 نمبرات والے جین طبقے سے قریب تر ہے ، مگر تعلیمی درجہ بندی میں مسلمانوں کو 68 میں سے 42.60 نمبرات کے ساتھ پسماندہ دکھایا گیا ہے ۔ 
    
جہاں تک مسلمانوں کے معاش اور روزگار کا معاملہ ہے اس میں مسلمانوں   کو 32 نمبرات میں سے 26.94 نمبرات دئے گئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے میں مسلمان تمام پسماندہ طبقات میں سب سے زیادہ پسماندہ طبقے کے زمرے میں آتے ہیں ۔ یہاں روزگار اور معاش کا معیار طے کرنے کے لئے زمین جائداد کی ملکیت، ملازمت کی نوعیت، بے روزگاری وغیرہ کو بنیاد بنایا گیا ہے ۔
    
سروے رپورٹ کے مطابق کرناٹکا میں جین 34.99 نمبرات اور عیسائی 24.68 نمبرات کے ساتھ سب سے  ترقی یافتہ طبقات میں آگے ہیں ۔ درحقیقت معاشی  ترقی کے معاملے میں  برہمنوں کے بعد عیسائی طبقہ دوسرے نمبر پر آتا ہے ۔ 
    
مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کا درجہ ظاہر کرنے والی اس سروے رپورٹ کے پس منظر میں سیاسی طور پر وزیر اعلیٰ سدارامیا کے اس موقف کو تقویت ملے گی جس کے تحت وہ مسلمانوں کے ریزرویشن کوٹہ میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں ، جبکہ بی جے پی مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کو دستور ہند کے خلاف قرار دیتی ہے ۔ 
    
خیال رہے کہ ریاست میں مسلمان فی الحال 4% ریزرویشن کوٹہ کے ساتھ پسماندہ طبقات کے 2B زمرے میں شامل ہیں ۔ کانگریسی ایم ایل اے اور سابق وزیر تنویر سیٹھ کا کہنا ہے کہ "سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں صاف طور پر بتایا تھا  کہ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی حالت ایس سی اور ایس ٹی سے بھی گئی گزری ہے ۔ ہم ایس سی / ایس ٹی اور او بی سی کے لئے جاری کیے گئے پروگراموں کی مانگ نہیں کر رہے ہیں ۔ ہم تو بس تعلیم، صحت، رہائش اور ملازمتوں کے معاملے میں حمایت  چاہتے ہیں ۔" 
    
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سروے کے دوران جملہ 59.51 لاکھ افراد نے اپنے آپ کو صرف "مسلم" بتایا ۔ ان میں سے 11.7% افراد نے تعلیمی لحاظ سے خود کو دسویں پاس بتایا جبکہ صرف 5.5% نے بتایا کہ انہوں نے کالج یا یونیورسٹی سے فراغت حاصل کی ہے ۔ محض 1.03% مسلمانوں کے پاس سرکاری ملازمت ہے اور 1.39% مسلمان پرائیویٹ ملازمت کرتے ہیں ۔ زیادہ تر افراد اپنے خاندانی پیشے یا تجارت  پر انحصار کرتے ہیں ۔  
    
کمیشن کے مطابق سروے میں 90 یا اس سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے والے طبقے یا ذات کو 'سب سے زیادہ پسماندہ' قرار دیا جاتا ہے اور انہیں 1A اور 1B زمرے میں شامل کیا جاتا ہے ۔ 50 سے 89 تک نمبرات والی ذات یا طبقے کو 'زیادہ پسماندہ' مانا جاتا ہے اور انہیں 2A اور 2B زمرے میں رکھا جاتا ہے ۔ جبکہ 20 سے 49 نمبرات والے طبقے یا ذات کو 'پسماندہ' قرار دیتے ہوئے انہیں 3A اور 3B کے زمرے میں  شامل کیا جاتا ہے ۔ 


Share: