ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اتر کنڑا میں نئے عہدوں کی تشکیل اور اہلکاروں کی تقرری کے بغیر قائم ہو رہے ہیں نئے پولیس تھانے

اتر کنڑا میں نئے عہدوں کی تشکیل اور اہلکاروں کی تقرری کے بغیر قائم ہو رہے ہیں نئے پولیس تھانے

Wed, 25 Mar 2026 17:52:39    S O News

کاروار ،25 / مارچ (ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے ضلع اتر کنڑا میں نئے عہدوں کی تشکیل اور نئے اہلکاروں کی تقرری کے بغیر پرانے تھانوں سے افسران اور اہلکاروں کا تبادلہ کرتے ہوئے نئے پولیس تھانے قائم کیے جا رہے ہیں ۔ 
    
ریاستی حکومت کی 'اضافی خرچ کے بغیر نئے پولیس اسٹیشن' قائم کرنے کی اس پالیسی کے تعلق سے ضلع اتر کنڑا کے پولیس حلقوں میں بے اطمینانی کا اظہار ہو رہا ہے ۔ کیونکہ پرانے تھانے سے افسران اور اہلکاروں کو ہٹا کر دوسرے نئے تھانے میں منتقل کرنے سے پرانے پولیس تھانوں میں موجود عملے کی کمی اور کام کا بوجھ زیادہ ہو جانا اور عوام کے لئے خدمات فراہم کرنے میں دشواری پیدا ہونا فطری بات ہے ۔  
    
ابھی حال ہی میں سرسی میں ٹریفک پولیس اسٹیشن قائم کیا گیا، مگر الزام ہے کہ یہ پولیس اسٹیشن حکومت کی طرف سے باضابطہ منظوری کے ساتھ شروع نہیں کیا گیا ہے ۔ اس پولیس اسٹیشن کے لئے نئے عملہ کا تقرر کیے بغیر ضلع کے مختلف پولیس تھانوں سے 30 اہلکاروں یہاں منتقل کیا گیا ہے ۔ ان میں 8 حوالداروں اور 2 اے ایس آئی سمیت کدرا پولیس اسٹیشن کا پی ایس آئی شامل ہے ۔ دلیل یہ دی گئی ہے کہ پرانے پولیس تھانوں میں کام کا بوجھ کم اور اہلکار زیادہ تھے ۔ حالانکہ اس طرح پرانے پولیس اسٹیشنوں میں عملے کی کمی کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے ۔
    
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے نئے عہدوں کی تشکیل ہوتی ہے تو حوالدار اے ایس آئی کے عہدوں پر تعینات اہلکاروں کو ترقی ملنے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں ۔ لیکن اگر انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے تو عہدوں میں ترقی کا موقع نہیں رہتا ۔ 
    
اسی بیچ ریاست کے منگلورو، داونگیرے، بیلگاوی اور بینگلورو جیسےاضلاع  کے لئے پانچ نئے پولیس اسٹیشنس حکومت کی طرف سے باضابطہ طور پر منظو ہوئے ہیں ۔ لیکن رقبے کی وسعت کے حساب سے ریاست کے سب سے بڑے اضلاع میں سے ایک ضلع اتر کنڑا میں پولیس تھانوں کی تعداد صرف 30 تک ہی محدود ہے ۔ اڈپی ضلع میں پولیس عملے کی تعداد اطمینان بخش اور انتظام عمدہ ہے ۔ 
    
اتر کنڑا کے سی ای این پولیس اسٹیشن کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔ یہاں بھی بس چند اہلکاروں کو تعینات کرکے کام چلایا جا رہا ہے ۔ اس کے مقابلے میں اڈپی ضلع کے سی ای این پولیس اسٹیشن میں 30 سے زائد اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے ۔ 
    
معلوم ہوا ہے کہ اتر کنڑا کے کدرا پولیس اسٹیشن کو بند کرکے سنکسال میں منتقل کرنے اور کدرا- ملاپور پولیس اسٹیشن کا درجہ بڑھانے کا منصوبہ ہے اور اس کے لئے کاغذی کارروائی شروع ہو گئی ہے ۔ اس تعلق پولیس حلقوں میں یہ سرگوشیاں ہو رہی ہیں کہ سنکسال میں پولیس اسٹیشن قائم کرنا بہتر قدم ہے مگر حکومت کی طرف سے باضابطہ منظوری کے بعد نئے عہدوں کی تشکیل اور تقرری کے ساتھ یہ کام ہونا چاہیے ۔ 
    
اعتراض اس بات پر بھی جتایا جا رہا ہے کہ امبیکا نگر پولیس اسٹیشن کو بھاگوتی میں منتقل کرنے کا منصوبہ اسی انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے اور دوسرے پولیس اسٹیشنوں سے اہلکاروں کو وہاں بھیجنے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ جبکہ پورے ضلع میں کئی پولیس اسٹیشنوں میں عملے کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے ۔ حکومت کی طرف سے اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے پرانے پولیس اسٹیشنوں کے عملے سے اہلکاروں کا تبادلہ کرکے نئے پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ جس کے تعلق سے محکمہ کے اندر فطری طور پر پیدا ہونے والی بے چینی اور بے اطمینانی کو محسوس کیا جا سکتا ہے ۔     


Share: