بنگلورو، 25 جون (ایس او نیوز / ایجنسی)ریاست کرناٹک کی تمام گرام پنچایتوں میں مالی شفافیت کو یقینی بنانے اور برسوں سے التوا میں پڑے آڈٹ اعتراضات کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے ایک سو (100) روزہ خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا اعلان ریاستی وزیر برائے دیہی ترقیات و پنچایت راج نیز آئی ٹی و بی ٹی، پریانک کھرگے نے کیا۔
وزیر موصوف کے مطابق یہ مہم 10 جون 2025 سے شروع ہوچکی ہے اور 23 ستمبر 2025 تک جاری رہے گی۔ اس دوران مالی سال 2014-15 سے لے کر 2023-24 کے اختتام تک گرام پنچایتوں میں زیر التوا تمام مالی اعتراضات کو ضابطوں کے مطابق نمٹانے کی کوشش کی جائے گی۔
ریاستی اکاؤنٹس و آڈٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2022-23 کے اختتام تک ریاست کی گرام پنچایتوں میں مجموعی طور پر 56,551 آڈٹ اعتراضات زیر التوا ہیں جن کی مالیت تقریباً ₹1505.86 کروڑ روپے ہے۔ انہی اعتراضات کو حل کرنے کے مقصد سے اس جامع مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔
وزیر پریانک کھرگے نے تمام ضلع و تعلقہ سطح کے افسران کو سختی سے ہدایت دی ہے کہ وہ باقاعدگی سے اجلاس منعقد کر کے ان اعتراضات کی نشاندہی اور ان کا حل یقینی بنائیں۔ گرام پنچایت سطح پر ایگزیکٹو آفیسر کی صدارت میں ایڈہاک کمیٹی کے اجلاس ہر مہینے کم از کم دو مرتبہ یا ضرورت پڑنے پر ہر ہفتے منعقد کیے جائیں گے، جن میں اعتراضات کا نکتہ وار جائزہ لیا جائے گا۔
اگر کسی گرام پنچایت کی طرف سے متعلقہ اعتراضات کا مناسب اور دستاویزی جواب فراہم نہیں کیا گیا، تو ان کے خلاف بازیابی (ریکوری) کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ تمام ضلع پنچایتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس خصوصی مہم کے دوران کی گئی کارروائی کی تفصیلی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کریں۔
وزیر موصوف نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی ضلع میں اس مہم کے اہداف حاصل نہ ہو سکے یا بازیابی کی رفتار سست رہی، تو اس کی مکمل ذمہ داری تعلقہ پنچایت کے ایگزیکٹو آفیسر پر عائد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر مہینے اعتراضات کے حل کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس عمل میں شفافیت اور مؤثریت کو یقینی بنایا جا سکے۔