بنگلورو، 21 جون (ایس او نیوز / ایجنسی)وزیراعلیٰ سدارامیا کی صدارت میں جمعہ کو منعقدہ کابینہ اجلاس میں اقلیتوں کو ریاستی رہائشی اسکیموں میں 15 فیصد حصہ داری دینے کے انتظامی فیصلے کو منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کے تحت مسلم، عیسائی، جین و دیگر اقلیتی طبقات کو ریاست بھر میں چل رہی رہائشی اسکیموں میں مخصوص حصہ دیا جائے گا، جس کا اطلاق ان پنچایت علاقوں میں مؤثر طریقے سے کیا جائے گا جہاں اقلیتوں کی آبادی 10 فیصد سے کم ہے اور موجودہ حصہ استعمال نہیں ہو پا رہا۔ یہ فیصلہ وزیراعظم کے 15 نکاتی پروگرام 2019 کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس میں مرکز اور ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اقلیتوں کے لیے اسکیموں میں کم از کم 15 فیصد ہدف مختص کیا جائے۔
وزیراعلیٰ سدارامیا نے وضاحت کی کہ یہ کوئی نیا ریزرویشن نہیں بلکہ ایک انتظامی ایڈجسٹمنٹ ہے، جو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ایس سی، ایس ٹی یا او بی سی طبقات کے موجودہ ریزرویشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ صرف غیر محفوظ زمرے میں ایڈجسٹمنٹ ہے۔ اس فیصلے سے رواں سال 34 ہزار سے زائد اقلیتی خاندانوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ سدارامیا نے بی جے پی پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت خود یہی رہنما خطوط نافذ کرتی ہے، لیکن ریاستی حکومت کے اسی اصول کو "خوشامدی سیاست" قرار دینا سیاسی موقع پرستی ہے۔
کابینہ اجلاس میں آم کی فصل کو پہنچے نقصان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کولار، بنگلورو دیہی اور دیگر آم پیدا کرنے والے علاقوں کے کسانوں کے لیے مرکز سے مالی معاوضے کا مطالبہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیر زراعت اور چیف سیکریٹری کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مرکز سے بات چیت کریں اور اگر ضرورت ہو تو دہلی جا کر تفصیلی تبادلہ خیال کریں تاکہ کسانوں کو فوری راحت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں متعدد دیگر فلاحی اور ترقیاتی اقدامات کو بھی منظوری دی گئی۔ ریاست میں تقریباً تین لاکھ کنٹریکٹ، آؤٹ سورس اور اعزازیہ پر کام کرنے والے ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد کے لیے سالانہ پانچ لاکھ روپے تک کے کیش لیس ہیلتھ انشورنس اسکیم کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ملازمین کو ماہانہ 100 روپے کی قسط دینی ہوگی، جبکہ بقیہ رقم حکومت برداشت کرے گی۔
ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے کابینہ نے ضلع اُتر کنڑا کے ساحلی علاقے ہوناور میں واقع 6 کلومیٹر طویل سمندری پٹی اور 835 ہیکٹر جنگلاتی زمین کو اپسرکونڈ-موگلی سمندری حیاتیاتی پناہ گاہ قرار دینے کی منظوری دی۔ اس فیصلے سے مقامی ماہی گیروں کی روایتی سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ان کے قانونی حقوق محفوظ رہیں گے۔
کابینہ نے لوک آیکتہ ادارے میں دو اہم تقرریوں کو بھی منظوری دی، جن کے تحت سنجے بی بھٹ کو سینئر سرکاری وکیل اور رماکانت چوہان کو اپر رجسٹرار (انکوائری) کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔
اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں کے تحت بیدر ضلع کے بسواکلیان میں زیر تعمیر "انو بھو منڈپ" منصوبے کے لیے 742 کروڑ روپے کے ترمیم شدہ بجٹ کی منظوری دی گئی، جبکہ دشوار گزار علاقوں میں طبی سہولیات پہنچانے کے لیے 15.97 کروڑ روپے کی لاگت سے موبائل ہیلتھ یونٹس کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا۔
عوامی مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے ضلع ہاوری کے ہانگل تعلقہ کے گاؤں "بساپور" کا نام تبدیل کر کے "گیروگڈا بساپور" رکھا گیا، کیونکہ مقامی سطح پر یہی نام رائج ہے۔ اسی طرح ضلع کوپل کے تعلقہ کشتگی میں مسکنالا ندی پر بیریج کی تعمیر اور کنکنالا آبپاشی منصوبے کے لیے 134.56 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں متعدد مجوزہ قوانین پر بھی گفتگو کی گئی جن میں کراؤڈ مینجمنٹ بل، روہت ویمولا بل، فیک نیوز پر روک تھام اور نفرت انگیز تقاریر کے انسداد سے متعلق مسودات شامل ہیں۔ ان بلوں پر تفصیلی بحث آئندہ اجلاس میں کی جائے گی۔
وزیر پارلیمانی امور ایچ کے پاٹل نے اجلاس کے بعد بتایا کہ کابینہ کا آئندہ اجلاس 16 یا 17 جولائی کو نندی ہلز میں منعقد ہونے کا امکان ہے، تاہم وہاں ترقیاتی تجاویز پیش کرنے میں تاخیر کے سبب مقام میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔