ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کسانوں کو بااختیار بنائے بغیر سماجی انصاف ممکن نہیں، زرعی ترقی ہی معیشت کا ستون ہے: وزیراعلیٰ سدارامیا

کسانوں کو بااختیار بنائے بغیر سماجی انصاف ممکن نہیں، زرعی ترقی ہی معیشت کا ستون ہے: وزیراعلیٰ سدارامیا

Sat, 21 Jun 2025 11:33:16    S O News

بنگلورو، 21 جون (ایس او نیوز / ایجنسی)وزیراعلیٰ کرناٹک سدارامیا نے کہا ہے کہ زراعت نہ صرف ملک کی معیشت کا مضبوط ستون ہے بلکہ سب سے زیادہ روزگار کے مواقع بھی یہی شعبہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک کسانوں کو اقتصادی طور پر بااختیار نہیں بنایا جاتا، سماجی انصاف اور طبقات سے پاک معاشرہ ممکن نہیں۔

سدارامیا جمعہ کو بنگلورو میں روزنامہ وجے کرناٹک کے زیر اہتمام منعقدہ "سپر اسٹار کسان" پروگرام سے خطاب کر رہے تھے، جہاں ریاست کے ممتاز کسانوں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دیہی ہندوستان کی تقریباً 70 فیصد آبادی زراعت پر منحصر ہے اور ملک کی غذائی خودکفالت و خودداری کے پیچھے کسانوں کا کلیدی کردار ہے۔

انہوں نے زرعی محکمہ کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ "لیب ٹو لینڈ" اور "لینڈ ٹو لیب" ماڈل کے تحت سائنسی تجربات اور نئی ٹیکنالوجی کو کسانوں تک پہنچائیں اور ان کی رائے کو اہمیت دیں تاکہ زراعت کو عملی سطح پر جدید بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ زراعت میں اختراع (Innovation) وقت کی ضرورت ہے۔

سدارامیا نے اس موقع پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی فلاحی ضمانتی اسکیموں پر وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے ریاستی معیشت کو دیوالیہ ہونے کے خدشے کا اظہار بے بنیاد ثابت ہوا ہے۔ اگر واقعی معیشت کمزور ہوتی تو حکومت ہر سال کسانوں کے پمپ سیٹوں پر 19,000 کروڑ روپے سبسڈی اور زرعی آبپاشی پر 26,000 کروڑ روپے مختص نہ کر پاتی۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سابق کانگریس حکومت کے دور میں شروع کی گئی ’کرشی بھاگیہ‘ اسکیم کو بی جے پی حکومت نے بند کر دیا تھا، لیکن کانگریس کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اس اسکیم کو بحال کیا گیا ہے، اور اب تک ریاست بھر میں 24,000 زرعی تالاب تعمیر کیے جا چکے ہیں، جو خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں آبی وسائل کے تحفظ میں معاون ہیں۔

سدارامیا نے یہ بھی واضح کیا کہ کرناٹک، راجستھان کے بعد سب سے زیادہ بارانی (خشک) زمین رکھنے والی ریاست ہے، اس لیے یہاں کی زراعت کو خاص چیلنجز کا سامنا ہے اور کامیاب کسانوں کو سراہنا ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت نامیاتی (آرگینک) زراعت کو فروغ دے رہی ہے کیونکہ زمین کی زرخیزی میں 43 فیصد کمی، کاربن کی گھٹتی مقدار کے باعث پیداوار اور کسانوں کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ وہ خود ایک کسان خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے دیہی زندگی اور کسانوں کے مسائل کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے نریگا جیسی اسکیموں کو بھی کسانوں کے لیے معاون قرار دیتے ہوئے کہا کہ منموہن سنگھ حکومت کی یہ پہل آج بھی کسانوں کے روزگار کا سہارا بنی ہوئی ہے۔

اس موقع پر ریاستی وزیر زراعت چلوورایا سوامی اور وجے کرناٹک کے ایڈیٹر سدرشن چننگی ہلی بھی موجود تھے، جنہوں نے کسانوں کی خدمات کو سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔


Share: