بینگلورو، 11 جون (ایس او نیوز) کرناٹک ہائی کورٹ میں آج 4 جون کو بینگلورو کے چنا سوامی اسٹیڈیم کے باہر پیش آئے افسوسناک بھگدڑ واقعہ پر سماعت ہوئی، جس کے دوران ریاستی حکومت نے براہ راست (بی سی سی آئی) اور رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیا۔ حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل ششی کرن شیٹی نے عدالت کو بتایا کہ بی سی سی آئی اور آر سی بی نے سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر سے شائقین کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی، لیکن اس کے لیے کسی بھی طرح کی پیشگی اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔
ریاستی حکومت نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ چنّاسوامی اسٹیڈیم کی گنجائش محض 33 ہزار ہے، اس کے باوجود بی سی سی آئی اور آر سی بی کی جانب سے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر دی گئی دعوت کے نتیجے میں تقریباً تین سے چار لاکھ افراد اسٹیڈیم کے اطراف جمع ہو گئے۔ حکام کے مطابق آر سی بی نے اس پروگرام کے سلسلے میں صرف 3 جون کی شام پانچ بجے اطلاع دی تھی، جو ضابطے کے مطابق مقررہ سات دن قبل پیشگی اجازت لینے کی شرط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عدالت میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی، گیٹ مینجمنٹ اور ٹکٹنگ کی تمام تر ذمہ داری بی سی سی آئی اور آر سی بی کی تھی، تاہم نہ تو کسی قسم کے بیریکیڈس لگائے گئے تھے اور نہ ہی کوئی مؤثر نظام العمل موجود تھا۔
ایڈوکیٹ جنرل نے آر سی بی پر عدالت کو گمراہ کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ یہ تاثر دیا گیا جیسے یہ تقریب حکومت کی جانب سے منعقد کی گئی ہو، حالانکہ زمینی حقیقت بالکل مختلف تھی۔ عدالت نے فی الحال گرفتار چار ملزمان کی پولیس حراست پر روک لگا دی ہے، جن میں آر سی بی کے مارکیٹنگ ہیڈ نکھل سوسالے بھی شامل ہیں۔ ان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر فیصلہ 12 جون کو دوپہر 2:30 بجے سنایا جائے گا۔
دوسری جانب، رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کے گرفتار مارکیٹنگ ہیڈ نکھل سوسالے کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر میں صرف اداروں یعنی آر سی بی اور ڈی این اے انٹرٹینمنٹ کے نام شامل ہیں، کسی فرد کا نام درج نہیں کیا گیا۔ اس بنیاد پر گرفتاری انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ وکیل نے عدالت سے استفسار کیا کہ صرف ایونٹ سے وابستہ نچلی سطح کے ملازمین کو تو فوری طور پر گرفتار کیا گیا، لیکن وہ پولیس افسران جنہیں واقعے کے بعد معطل کیا گیا، انہیں تاحال تفتیش میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ 4 جون کو بینگلورو کے چنّاسوامی اسٹیڈیم کے باہر پیش آئے افسوسناک واقعے میں 11 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کی تحقیقات سی آئی ڈی کے سپرد کی گئی ہے اور ابتدائی طور پر متعدد پولیس افسران کو معطل کیا جا چکا ہے۔ عدالت نے حکومت کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی تفتیشی رپورٹ سیل بند لفافے میں عدالت میں پیش کرے، تاکہ عدالتی کمیشن کی کارروائی متاثر نہ ہو۔
اس کیس کی اگلی سماعت اور عبوری ضمانت سے متعلق فیصلہ 12 جون کو متوقع ہے۔