بنگلورو، 7 جولائی (ایس او نیوز) کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے مضافاتی علاقے سولدیونہلی میں ایک انتہائی دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں فحش پیغامات بھیجنے کے الزام میں ایک نوجوان کو اغوا کر کے بے رحمانہ طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس نے عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔
متاثرہ نوجوان کی شناخت کُشال کے طور پر ہوئی ہے، جسے مبینہ طور پر 8 سے 10 افراد پر مشتمل ایک گروہ نے اغوا کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، کشال نے اپنی سابق محبوبہ کو فحش پیغامات بھیجے تھے، جس پر لڑکی کے موجودہ دوست اور اس کے ساتھیوں نے منصوبہ بند انداز میں کشال کو دھوکے سے کار میں بٹھایا، پھر اسے ایک سنسان مقام پر لے جا کر برہنہ کیا اور اس کے نجی اعضا پر راڈ اور ڈنڈوں سے شدید مار پیٹ کی۔
ویڈیو میں ایک حملہ آور کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ: ’’یہ معاملہ رینوکا سوامی قتل کیس جیسا بن جائے گا۔‘‘ اس جملے نے پولیس کو خاص طور پر چوکنا کر دیا ہے، کیونکہ اس سے ایک اور ہائی پروفائل کیس کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ 2024 میں رینوکا سوامی نامی نوجوان کو فحش پیغامات بھیجنے پر اغوا، بہیمانہ تشدد اور قتل کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں معروف اداکار درشن اور اداکارہ پویترا گوڑا کا نام آیا تھا۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چار افراد، ہیمنت، یشونت، شیو شنکر اور ششانک گوڈا کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ ڈیجیٹل شواہد، بشمول وائرل ویڈیو، کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق، حملہ آوروں نے کشال کو سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔
یہ واقعہ ریاست میں بڑھتے ہوئے سوشل میڈیا پر فحش پیغامات، پرائیویسی کی خلاف ورزی اور انتقامی حملوں کے بڑھتے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ سماج کو بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔