ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: 10 کروڑ منظور، مگر کام شروع کیوں نہیں؟ سرابی ندی ہوراٹا سمیتی کا سوال، وزیر سے جواب طلبی کا مطالبہ

بھٹکل: 10 کروڑ منظور، مگر کام شروع کیوں نہیں؟ سرابی ندی ہوراٹا سمیتی کا سوال، وزیر سے جواب طلبی کا مطالبہ

Mon, 30 Mar 2026 21:32:23    S O News
بھٹکل: 10 کروڑ منظور، مگر کام شروع کیوں نہیں؟ سرابی ندی ہوراٹا سمیتی کا سوال، وزیر سے جواب طلبی کا مطالبہ

بھٹکل 30/مارچ (ایس او نیوز): سرابی ندی کی صفائی اور گہرائی کے لیے قریب نو ماہ قبل 10 کروڑ روپے کی منظوری کے باوجود کام شروع نہ ہونے پر سرابی ندی ہوراٹا سمیتی نے مجلس اصلاح و تنظیم کے ذمہ داران کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شدید ناراضگی ظاہر کی ہے۔ سمیتی نے تنظیم کے حمایت یافتہ ریاستی وزیر سے اس معاملے میں براہِ راست جواب طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

تنظیم کے دفتر میں منعقدہ اجلاس کے دوران سمیتی کے ارکان نے دو ٹوک انداز میں سوال اٹھایا کہ جب 10 کروڑ روپے کی منظوری ہو چکی ہے تو کام کیوں رکا ہوا ہے؟ اگر کام شروع نہیں ہوا تو اس تاخیر کے ذمہ دار کون ہیں؟

ارکان نے کہا کہ مانسون سر پر ہے، مگر ندی کی صفائی اور گہرائی کا کام اب تک شروع نہ ہونا انتظامیہ کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ عوام کے ووٹوں سے جیت کر وزیر کے عہدے تک پہنچنے والے نمائندے نے اس اہم مسئلے پر اب تک کیا عملی اقدامات کیے ہیں؟ کیا متعلقہ محکموں سے پیش رفت رپورٹ طلب کی گئی ہے یا یہ معاملہ سرد خانے کی نذر ہو چکا ہے؟

سمیتی کے ذمہ داران نے یاد دلایا کہ تنظیم نے انتخابی مرحلے میں کانگریس امیدوار کی حمایت کرتے ہوئے عوام سے ووٹ دینے کی اپیل کی تھی اور سرابی ندی کی صفائی کو ترجیحی مسئلہ قرار دیا تھا۔ اب جبکہ وہی نمائندہ اقتدار میں ہے، تنظیم کی جانب سے اس سے جواب طلبی نہ کرنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر کام شروع نہیں کیا گیا تو آنے والے مانسون میں نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ حکام اور سیاسی قیادت پر عائد ہوگی۔

sarabi-river-horata-samithi-1

سمیتی نے سرابی ندی کی تاریخی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ندی، جو آگے چل کر بحر عرب میں جا ملتی ہے، صدیوں قبل عرب تاجروں کی آمد کا ذریعہ رہی ہے، مگر آج یہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ مٹی، کیچڑ اور ڈرینج کے پانی نے اسے ایک بدبودار نالے میں تبدیل کر دیا ہے، جس سے ماحول اور عوامی صحت دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔

خاص طور پر غوثیہ اسٹریٹ کے یو جی ڈی پمپنگ اسٹیشن سے ندی میں چھوڑے جانے والے گندے پانی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے باعث اطراف کے کنویں بھی آلودہ ہو چکے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق مسئلہ روز بروز بڑھ رہا ہے، مگر ذمہ داران کی خاموشی تشویشناک ہے۔

سمیتی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ منظور شدہ فنڈ کے باوجود کام شروع نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں رکاوٹ موجود ہے—چاہے وہ فائلوں میں ہو، محکموں میں یا سیاسی سطح پر۔

اجلاس میں شریک مختلف اسپورٹس سینٹروں کے نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے کی موجودہ صورتحال عوام کے سامنے لائی جائے اور کام کے آغاز کے لیے واضح ٹائم لائن دی جائے۔

یاد رہے کہ ندی کی صفائی اور اسے گہرا کر کے دوبارہ صاف نہر میں تبدیل کرنے کے مقصد سے اطراف کے علاقوں کے اسپورٹس سینٹروں پر مشتمل سرابی ندی ہوراٹا سمیتی قائم کی گئی تھی، جس نے قریب دو سال قبل اس مطالبے پر ایک منظم احتجاج بھی کیا تھا۔ بعد ازاں وزیر برائے ماہی گیری، بندرگاہ و اندرونی آبی نقل و حمل اور ضلع اُترکنڑا کے انچارج وزیر منکال وئیدیا نے تقریباً نو ماہ قبل اس منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے کی منظوری کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد محکمۂ چھوٹی آبپاشی کی ایک ٹیم بھٹکل پہنچ کر ندی کا جائزہ لے چکی ہے اور بتایا گیا تھا کہ تکنیکی رپورٹ کے بعد اپریل کے پہلے ہفتے میں کام شروع ہو جائے گا اور مانسون سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا، تاہم زمینی سطح پر اب تک کسی بھی قسم کی پیش رفت نظر نہیں آ رہی، جس پر سمیتی نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے تنظیم کی جانب سے وزیر پر دباؤ نہ بنانے پر بھی سوال اٹھایا۔

اجلاس میں سمیتی کی جانب سے کوسموس، سن شائین، لائن، مون اسٹار، رویل اسپورٹس سینٹر اور سلطانی ویلفیئر اسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ مولوی انجم گنگاولی ندوی، عبدالسلام چامنڈی، قیصر محتشم، ابراہیم اور دیگر نے دو ٹوک اور بھرپور انداز میں اپنی بات رکھتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر تنظیم کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری، جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی اور فنانس سکریٹری عزیز الرحمٰن رکن الدین ندوی نے یقین دہانی کرائی کہ اس مسئلے کو آئندہ میٹنگ میں سنجیدگی سے اٹھایا جائے گا اور متعلقہ وزیر سے فوری رابطہ کر کے پیش رفت حاصل کی جائے گی۔ ہوراٹا سمیتی نے بھی واضح کیا کہ اگر جلد عملی قدم نظر نہ آیا تو وہ آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔


Share: