بیدر، 5 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) ریاستی وزیر برائے جنگلات، ماحولیات و حیاتیاتی علوم اور بیدر ضلع کے انچارج وزیر ایشور بی کھنڈرے نے کہا ہے کہ ریاست میں دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویشناک ہیں اور اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے عوام، بالخصوص نوجوانوں میں دل کی صحت سے متعلق بیداری پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ وہ اسکولوں، کالجوں اور دیگر عوامی مقامات پر صحت، غذا اور طرزِ زندگی سے متعلق آگہی مہم چلائیں۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز بیدر میں محکمہ صحت کے افسران کے ساتھ منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں ہارٹ اٹیک کے بڑھتے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر موصوف نے ہدایت دی کہ ریاست بھر میں مفت طبی معائنے کے کیمپس منعقد کیے جائیں اور تمام سرکاری اسپتالوں میں تکنیکی سہولیات کو اپ گریڈ کیا جائے تاکہ دل کے امراض کا بروقت اور مؤثر علاج ممکن ہو سکے۔
انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ ڈاکٹر پونیت راج کمار ہردیہ جیوتی اسکیم کے تحت ریاست کے تمام اسپتالوں اور صحت مراکز میں آن لائن دل کے امراض کا علاج فراہم کیا جائے گا۔ اس کے تحت بیدر میں 12 کروڑ روپئے کی لاگت سے ایک جدید کیتھ لیب (Cath Lab) کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، جسے جلد ہی عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔
وزیر کھنڈرے نے کہا کہ اس لیب میں کام کے لیے جلد ہی دو ماہر امراض قلب اور دیگر تکنیکی عملہ تعینات کیا جائے گا، اور اس تعلق سے انہوں نے محکمہ صحت کے پرنسپل سکریٹری سے بھی بات چیت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی BRIMS کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیوکمار شیٹکار کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کلبرگی کے جے دیوا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ساتھ عارضی معاہدہ کریں تاکہ کیتھ لیب کا کام فوری طور پر شروع کیا جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ چھ مہینوں کے دوران بیدر کے BRIMS اسپتال میں دل کے امراض میں مبتلا 517 مریضوں کا علاج کیا گیا، جبکہ شہر کے چار پرائیویٹ اسپتالوں نے آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت 601 مریضوں کو علاج فراہم کیا ہے، جو کہ ضلع میں دل کی بیماریوں کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس اہم اجلاس میں وزیر برائے بلدیات و حج امور رحیم خان، ضلع کلکٹر شلپا شرما، ضلع پنچایت کے سی ای او ڈاکٹر گریش بڈولے اور محکمہ صحت کے دیگر اعلیٰ افسران بھی شریک رہے۔