بنگلورو، 16 جون (ایس او نیوز/ایجنسی): کرناٹک ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت ریاست بھر میں بائیک ٹیکسی خدمات پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ریپڈو، اوبر اور اولا جیسی کمپنیاں 16 جون سے اپنی سروسز بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ اس پابندی سے نہ صرف عام شہریوں، طلبہ اور کم آمدنی والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، بلکہ لاکھوں نوجوان ڈرائیورز کی روزی روٹی بھی چھن گئی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بائیک ٹیکسیز کا استعمال موٹر وہیکل ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ سفید نمبر پلیٹ والی بائیکس کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا غیر قانونی ہے۔ حکومت نے خواتین کی سلامتی کو بھی بنیاد بناتے ہوئے کہا ہے کہ بائیک ٹیکسی سروسز میں نگرانی اور تحفظ کے مناسب انتظامات نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ، آٹو رکشا اور ٹیکسی یونینز کی مخالفت نے بھی حکومت کے فیصلے پر اثر ڈالا، کیونکہ ان کے مطابق بائیک ٹیکسیز نے کرایوں میں غیر معمولی کمی لا کر ان کی آمدنی متاثر کی ہے۔
ہائی کورٹ نے 13 جون کو پابندی کے خلاف دی گئی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے فوری طور پر بائیک ٹیکسی سروسز بند کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کے مطابق، ریاست میں اس وقت بائیک ٹیکسی کے لیے کوئی واضح قانونی فریم ورک موجود نہیں ہے۔
اس فیصلے کے بعد ریپڈو، اولا اور اوبر نے اپنے آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر نہ صرف گاڑیاں ضبط کی جائیں گی بلکہ ₹10,000 تک جرمانہ اور ممکنہ جیل کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
اس پابندی کا سب سے زیادہ اثر اُن مسافروں پر پڑا ہے جو بائیک ٹیکسی کو کم خرچ اور تیز رفتار سفری سہولت کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں نوجوان، جو جزوقتی آمدنی کے لیے بائیک ٹیکسی چلاتے تھے، اب بے روزگار ہو گئے ہیں۔ ریپڈو سے منسلک کئی نوجوانوں نے بتایا کہ انہیں یہ سروس زندگی کا سہارا بنی تھی، جو اب اچانک چھن گئی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی اس پابندی کے بعد دباؤ بڑھ گیا ہے۔ آٹو رکشا اور کیب سروسز کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، مگر کرایوں میں بھی اضافہ اور انتظار کا وقت بڑھنے کی شکایتیں آ رہی ہیں۔ کمپنیوں کے لیے کرناٹک جیسا بڑا بازار کھونا ایک بڑا جھٹکا ہے، اور امکان ہے کہ وہ قانونی طور پر اس فیصلے کو چیلنج کریں گی یا متبادل راستے تلاش کریں گی۔
سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر عوامی رائے منقسم ہے۔ کچھ لوگ حکومت کے فیصلے کو متوسط طبقے اور مزدوروں کے خلاف مان رہے ہیں، تو کچھ شہری سلامتی کے پیش نظر اس کی حمایت کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ کرناٹک میں بائیک ٹیکسی کی مخالفت کئی برسوں سے جاری ہے۔ جولائی 2024 میں ٹرانسپورٹ محکمہ نے 133 بائیک ٹیکسیز ضبط کی تھیں۔ کئی مواقع پر بائیک ٹیکسی ڈرائیوروں پر حملے بھی رپورٹ ہوئے۔ گو کہ گوا جیسے کچھ ریاستوں میں بائیک ٹیکسی کو قانونی حیثیت حاصل ہے، مگر کرناٹک میں ابھی تک اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔
اس تناظر میں، بائیک ٹیکسی ایسوسی ایشن نے وزیر اعلیٰ سدارامیا اور راہول گاندھی کو مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے خط لکھا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریاست بھر میں بائیک ٹیکسی سروس سے وابستہ ایک لاکھ سے زائد گِگ ورکرز کی روزی روٹی بچانے کے لیے فوری اقدام کیا جائے۔