بنگلورو، 3 /جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)کرناٹک میں بائیک ٹیکسی سروس پر عائد پابندی کے خلاف قانونی محاذ پر جاری جدوجہد کو اس وقت نئی طاقت ملی جب نہ صرف متعلقہ کمپنیاں عدالت سے رجوع ہوئیں، بلکہ خواتین مسافروں نے بھی بائیک ٹیکسی کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے اسے محفوظ، آسان اور کم خرچ سفری ذریعہ قرار دیا۔
بدھ کے روز کرناٹک ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ، جس کی صدارت عبوری چیف جسٹس وی کامیشور راؤ اور جسٹس سی ایم جوشی کر رہے تھے، نے اولا، اوبر اور ریپیڈو کی طرف سے دائر اپیلوں پر سماعت کی۔ یہ اپیلیں اس فیصلے کے خلاف داخل کی گئی ہیں جس میں ریاستی حکومت نے بائیک ٹیکسی سروس پر پابندی عائد کر دی تھی۔
سماعت کے دوران سینئر وکیل جینا کوٹاری نے خواتین مسافروں کی نمائندگی کرتے ہوئے عدالت میں دخل دیا اور واضح طور پر کہا کہ بائیک ٹیکسی سروس خواتین کے لیے ایک محفوظ، تیز اور معاشی ذریعہ ہے، جس سے روزانہ کی سفری ضروریات آسانی سے پوری ہوتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے پابندی لگانے سے پہلے خواتین صارفین کی رائے کیوں نہیں لی؟
انہوں نے بتایا کہ دیگر ریاستوں جیسے مغربی بنگال، راجستھان اور کیرالہ میں بائیک ٹیکسی سروس مخصوص حفاظتی اصولوں کے تحت کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے، جن میں ڈرائیورز کی پولیس تصدیق، بیک گراؤنڈ چیکنگ، اور بعض ریاستوں میں خواتین ڈرائیورز کی شمولیت جیسے مثبت اقدامات شامل ہیں۔
دریں اثنا، اوبر کے وکیل ادے ہولا نے عدالت کو بتایا کہ بائیک ٹیکسیوں پر پابندی کے بعد بنگلورو جیسے شہر میں ٹریفک جام میں تقریباً 18 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں میٹرو نیٹ ورک ابھی ناکافی ہے، اس لیے بائیک ٹیکسی جیسے متبادل ذرائع سفر کی اہمیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اس قانونی اور سماجی پس منظر میں مرکزی حکومت کی جانب سے 2 جولائی کو جاری کردہ نئی گائیڈ لائنز بھی اہم موڑ ثابت ہو رہی ہیں۔ ان رہنما اصولوں میں آن لائن ایگریگیٹرز کو نان ٹرانسپورٹ بائک کے ذریعے سروس مہیا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان گائیڈ لائنز کے مطابق، ریاستی حکومتیں اگر چاہیں تو نجی موٹر سائیکلوں کو بھی عوامی نقل و حمل کے لیے منظوری دے سکتی ہیں، جس سے شہریوں کو سستی سفری سہولت، مقامی سطح پر ترسیل، اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔
کمپنی ریپیڈو نے مرکزی گائیڈ لائنز کو "سنگ میل" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے لاکھوں شہریوں کو فائدہ ہوگا، جبکہ اوبر نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک کی ڈیجیٹل نقل و حرکت کی پالیسی میں ایک انقلابی قدم ہے۔
فی الحال، ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، مگر ہائی کورٹ میں جاری عدالتی کارروائی، اور مرکز کی نئی پالیسی کے بعد ریاست میں بائیک ٹیکسی سروس کے مستقبل پر امید کی نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔