ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپیشل رپورٹس / کرناٹک میں ذات پات پر مبنی از سر نو سروے رپورٹ، سدارامیا حکومت کا فیصلہ: سماجی انصاف کی راہ میں سیاست کی دیوار؟۔۔۔۔۔از: عبدالحلیم منصور

کرناٹک میں ذات پات پر مبنی از سر نو سروے رپورٹ، سدارامیا حکومت کا فیصلہ: سماجی انصاف کی راہ میں سیاست کی دیوار؟۔۔۔۔۔از: عبدالحلیم منصور

Sat, 14 Jun 2025 11:24:49    S O News

"وقت کہتا ہے زبان کھولو، حق کا اعلان کرو
خامشی کی زنجیروں کو توڑو، خود پہ احسان کرو"

کرناٹک میں سدارامیا قیادت والی کانگریس حکومت ایک بار پھر اپنے مستقل ووٹ بینک یعنی مسلمان اور پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف کرنے کے بجائے طاقتور ذاتوں کے دباؤ میں فیصلے کرتی نظر آ رہی ہے۔ سال 2015 میں سابقہ کانگریس (سدارامیا) حکومت کے دور میں کی گئی ذات پات پر مبنی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی سروے رپورٹ کو اب سرے سے مسترد کرتے ہوئے نئی مردم شماری کی بات کی جا رہی ہے۔ مگر یہ فیصلہ محض "آئینی شقوں" یا "اعداد و شمار کی خامیوں" پر مبنی نہیں، بلکہ ایک منظم سیاسی دباؤ، ناانصافی اور ذات پرستی کا شاخسانہ ہے۔

2015 میں اُس وقت کے پسماندہ طبقات کمیشن کے سربراہ ایچ این کانت راج کی نگرانی میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائی گئی، جس پر تقریباً 165 کروڑ روپے خرچ ہوئے، اور ریاست کے 1.6 لاکھ سرکاری ملازمین و عملے نے آٹھ ماہ تک دن رات محنت کی۔ ابتدائی نتائج سے یہ واضح ہوا کہ مسلمانوں کی آبادی 12 سے 13 فیصد کے درمیان ہے، جو کئی طاقتور ذاتوں جیسے لنگایت (11%) اور وکلیگا (10.8%) سے زیادہ ہے۔ یہی وہ انکشاف تھا جس نے ریاست کی طاقتور ذاتوں کو بے چین کر دیا۔

یہ رپورٹ محض ایک شماریاتی دستاویز نہیں، بلکہ آئینی تقاضوں کے تحت معاشرتی انصاف کے لیے ایک ٹھوس بنیاد تھی۔ لیکن دس سال گزرنے کے باوجود اسے نہ اسمبلی میں پیش کیا گیا، نہ عوام کے سامنے لایا گیا، اور کابینہ میں پیش ہونے کے بعد نہ ہی اس پر سنجیدہ بحث ہوئی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جب وہی حکومت دوبارہ برسر اقتدار آئی، تو اس رپورٹ کو "فرسودہ" قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ کیا یہ سچائی کو چھپانے کے لیے نیا جھوٹ گھڑنے کی کوشش ہے؟

رپورٹ کے لیک ہونے کے بعد خود کانگریس کے اندر سے مخالفت کی آوازیں اٹھیں، خاص طور پر لنگایت و وکلیگا طبقات سے تعلق رکھنے والے وزراء جیسے ایم بی پاٹل، شامنور شیو شنکرپا، اور ڈی کے شیوکمار نے اسے غیر سائنسی، ناقابلِ اعتبار اور سیاسی طور پر خطرناک قرار دیا۔ کانگریس قیادت کے لیے یہ ایک فیصلہ کن لمحہ تھا: یا تو وہ سماجی انصاف کا ساتھ دیتی، یا طاقتور طبقات کے دباؤ میں جھک جاتی۔ بدقسمتی سے، پارٹی نے مؤخر الذکر کو چُنا۔

مسلمان، دلت اور پسماندہ طبقات جو کانگریس کے مضبوط ترین ووٹ بینک ہیں، اس رپورٹ کے سب سے بڑے ممکنہ مستفید ہوتے۔ اگر رپورٹ کو نافذ کیا جاتا تو ان طبقات کو تعلیم، روزگار اور سیاسی نمائندگی میں مساوی مواقع میسر آ سکتے تھے۔ مگر کانگریس نے نہ صرف اس موقع کو گنوایا، بلکہ یہ بھی ظاہر کر دیا کہ ان طبقات کی اہمیت صرف ووٹ دینے تک محدود ہے۔سروے کے نئے اعلان سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت طاقتور طبقات کو خوش رکھنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ 165 کروڑ روپے کی عوامی رقم خرچ کر کے جو رپورٹ تیار ہوئی تھی، اسے شائع کیے بغیر ایک نئی مردم شماری کا اعلان دراصل سیاسی مصلحتوں کا عکاس ہے، نہ کہ شفافیت کا۔

اگر بی جے پی حکومت نے اس رپورٹ کو روکا تھا، تو کانگریس حکومت نے گزشتہ دو برسوں میں اسے کابینہ میں آخر تک کیوں پیش نہیں کیا؟ اور اگر عجلت میں پیش بھی کیا گیا، تو اختلافات کو ختم کرنے میں کامیابی کیوں نہیں حاصل کی گئی؟ اسے عوام کے سامنے لانے سے گریز کیوں کیا گیا؟ اور اب اسے ’نامکمل‘ یا ’ناقابلِ اعتبار‘ کہہ کر مسترد کرنا کس حد تک قابلِ قبول ہے؟ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جن مسلمانوں کے ووٹوں سے یہ حکومت قائم ہوئی، انہی کے وزراء، لیجسلیچرز، دانشور اور تنظیمیں خاموش تماشائی بنی رہیں۔ نہ کسی نے آواز بلند کی، نہ ہی کوئی منظم موقف اختیار کیا۔ گویا مسلمان محض ووٹ دینے کی حد تک بیدار کیے جاتے ہیں، باقی وقت ان کی ’خاموشی‘ کو حکومت کی سہولت تصور کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں مسلمانوں کی بڑی آبادی کا انکشاف صرف ایک عددی حقیقت نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی زلزلہ تھا، جس نے کئی طبقات کے اندر خوف اور حسد کو بیدار کر دیا۔ اس کی بنیاد پر مسلمانوں کو تعلیم، روزگار اور سیاست میں مساوی مقام مل سکتا تھا، لیکن انہی خدشات کی بنیاد پر سچائی کو دبا دیا گیا۔ اگر حکومت واقعی شفافیت چاہتی ہے تو سب سے پہلے 2015 کی رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کرے، تاکہ ہر شہری خود طے کرے کہ رپورٹ میں کیا غلط ہے، اور کسے فائدہ یا نقصان ہوا۔ صرف ایک طرفہ فیصلہ، بغیر کسی عوامی مشورے، بغیر ماہرین کی رائے اور بغیر کسی پارلیمانی بحث کے، محض چند ذاتوں کے دباؤ میں آ کر سروے کی منسوخی یہ جمہوریت کے اصولوں سے کھلا مذاق ہے۔

یہ تاثر اب عام ہوتا جا رہا ہے کہ سدارامیا، جو خود کو سماجی انصاف کا علمبردار کہتے ہیں، اصل میں سماجی توازن کے سب سے بڑے بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کا ہر فیصلہ — چاہے وہ وقف، اقلیتوں کی فلاح، یا ذات پر مبنی سروے ہو — سیاسی سمجھوتوں سے لبریز ہے۔ اور اس کا خمیازہ ہمیشہ وہ طبقات بھگتتے ہیں، جو آواز اٹھانے کے بجائے "ہمارا اور کون ہے؟" کی خاموشی میں پناہ لیتے ہیں۔

کانگریس، جس کا سیاسی مستقبل ہمیشہ سے دلتوں، مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی حمایت پر قائم رہا ہے، نے بجائے اس کے کہ وہ ان طبقات کی آواز بنے، ان کا حق چھین لیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس صرف انتخابی وقت پر مسلمانوں اور دلتوں کو یاد کرتی ہے؟ کیا انہیں صرف ووٹ بینک سمجھا جاتا ہے؟

اسی دوران جب سدارامیا دہلی طلب کیے گئے، چنا سوامی اسٹیڈیم میں بھگدڑ کے دوران گیارہ افراد ہلاک ہو گئے۔ لیکن دہلی میں ان اموات پر وضاحت طلب کرنے کے بجائے ذات پات پر مبنی سروے ہی مرکز گفتگو رہا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی فلاح کی ترجیحات ثانوی ہو چکی ہیں۔کیا وقت نہیں آ چکا کہ مسلمان، دلت، اور پسماندہ طبقات اب ایک واضح اور متحد حکمت عملی کے ساتھ اپنے حقوق کی بازیافت کے لیے کھڑے ہوں؟ اگر نیا سروے ناگزیر ہے، تو پرانی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے، تاکہ موازنہ ممکن ہو اور شفافیت برقرار رہے۔

یہ رپورٹ آخر دس سال تک کیوں دبائی گئی؟ اگر بی جے پی حکومت نے اس کی مخالفت کی تھی، تو موجودہ حکومت نے ان دو برسوں میں اسے منظر عام پر لانے کے لیے کیا کوشش کی؟ کتنی بار کابینہ میں اسے زیر بحث لایا گیا؟ اور کیوں اسے پبلک ڈومین میں نہیں ڈالا گیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب صرف حکومت ہی نہیں، بلکہ پوری کانگریس قیادت کو دینے ہوں گے۔سدارامیا جنہیں کبھی سماجی انصاف کا علمبردار سمجھا جاتا تھا، آج انہی کے فیصلے سیاسی سمجھوتوں سے لبریز نظر آتے ہیں۔ وقف، تعلیم، نمائندگی، روزگار، اور اب ذات پر مبنی سروے — ہر معاملے میں ان کی پالیسیوں میں جھکاؤ اور پس و پیش نمایاں ہے۔وقت آ چکا ہے کہ مسلمان، دلت، اور پسماندہ طبقات خاموشی توڑیں۔ آئینی بنیاد، اعداد و شمار، دلیل، اور جمہوری حق کی روشنی میں اپنی آواز بلند کریں۔ سماجی انصاف محض تقریر کا عنوان نہیں، بلکہ آئینی حق ہے — جسے حاصل کرنا ہر قیمت پر ضروری ہے۔

(مضمون نگار معروف صحافی وتجزیہ نگار ہیں)


Share: