ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں اقلیتوں کی تعلیمی کارکردگی پر نظرثانی کے لیے کمیٹی تشکیل – ایس ایس ایل سی نتائج پر تشویش کے بعد بڑا قدم

کرناٹک میں اقلیتوں کی تعلیمی کارکردگی پر نظرثانی کے لیے کمیٹی تشکیل – ایس ایس ایل سی نتائج پر تشویش کے بعد بڑا قدم

Sat, 14 Jun 2025 10:53:15    S O News

بنگلورو، 14 جون (ایس او نیوز): کرناٹک میں اقلیتی طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی اقلیتی کمیشن نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ حالیہ ایس ایس ایل سی (دسویں جماعت) امتحانات میں اقلیتی طلبہ کی کارکردگی اطمینان بخش نہ ہونے کی بنا پر کمیشن نے ایک سات رکنی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کا مقصد اقلیتوں کی تعلیمی حالت کا تفصیلی جائزہ لینا اور بہتری کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کرنا ہے۔

یہ فیصلہ تعلیمی سال 2024-25 کے دوران سامنے آنے والے کمزور نتائج کی روشنی میں لیا گیا ہے، اور اس کا مقصد ریاست بھر میں اقلیتی طلبہ کی تعلیمی سطح کو بہتر بنانا اور اردو میڈیم و دیگر اقلیتی اسکولوں میں نظامِ تعلیم کو مؤثر بنانا ہے۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اقلیتی طلبہ کی تعلیمی پسماندگی کے اسباب کا تجزیہ کرے، موجودہ نظام میں خامیوں کی نشاندہی کرے، اور بہتری کے لیے ٹھوس سفارشات پیش کرے۔

کمیٹی کی صدارت ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر سید سلیم ادھونی کریں گے، جبکہ دیگر اراکین میں مولانا خالد بیگ ندوی (ٹمکور)، ایس اے کبیر (الائن پبلک اسکول)، وکیل اکمل رضوی، ڈاکٹر طہ متین (بنگلورو)، بی ای او ضمیر پاشاہ (شمالی بنگلور)، اور ریٹائرڈ کے اے ایس افسر مجیب اللہ ظفاری شامل ہیں۔ ظفاری اس وقت صدرِ کمیشن کے خصوصی افسر (او ایس ڈی) کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

کمیٹی ریاست بھر میں اقلیتی طلبہ کی تعلیمی ترقی کے لیے عملی اقدامات پر مبنی سفارشات پیش کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ آنگن واڑی مراکز، نرسری اور پرائمری اسکولوں میں 3 سے 6 سال کی عمر کے اقلیتی بچوں کے 100 فیصد داخلے کو یقینی بنانے کے لیے بھی تجاویز طلب کی گئی ہیں۔ اردو میڈیم اسکولوں کے تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے بھی خاص طور پر توجہ دی جائے گی۔

ریاستی اقلیتی کمیشن نے مذکورہ کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اپنی جامع رپورٹ پیش کرے، تاکہ اس کی بنیاد پر اقلیتی تعلیمی پالیسی کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔

یہ اقدام ریاستی حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی تعلیم کے میدان میں سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظہر ہے، جسے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔


Share: