بھٹکل، 2 / اپریل (ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی از سرِ نو تقسیم شروع ہونے کے آثار نظر آ رہے ہیں جس سے سیاسی پارٹیوں کی موجودہ پوزیشن اور بہت سارے سیاست دانوں کا مستقبل متاثر ہونے کے امکانات ہیں ۔
ذرائع سے ملی خبروں کے مطابق نئی حلقہ بندی کے تحت اتر کنڑا میں سرسی اور کاروار کو الگ الگ پارلیمانی حلقے قرار دیا جائے گا اس طرح موجودہ ایک پارلیمانی سیٹ کے بجائے اب یہاں دو سیٹیں وجود میں آئیں گی ۔ اسی طرح صرف کاروار، سرسی اور ہلیال تعلقہ جات کو تین اسمبلی حلقوں میں بانٹ کر ضلع کے لئے کم از کم تین اضافی سیٹیں بنائی جائیں گی ۔
خیال رہے کہ موجودہ تقسیم کے تحت کاروار کے ساتھ انکولہ اور سرسی کے ساتھ سداپور اور دانڈیلی کے ساتھ ہلیال اور جوئیڈا شامل ہے ۔ اب نئی تقسیم میں انکولہ، سداپور اور ہلیال اور جوئیڈا پر مشتمل الگ حلقہ بنایا جائے گا ۔ اس نئی تقسیم کی وجہ سے ضلع اتر کنڑا میں اس وقت جو 6 اسمبلی سیٹیں ہیں وہ بڑھ کر 9 سے11 تک ہو سکتی ہیں ۔
آئندہ اسمبلی انتخاب میں ضلع اتر کنڑا سے ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہشمندوں کے لئے بے چین کرنے والی ایک خبر یہ ہے کہ کاروار، بھٹکل اسمبلی نشست کو خواتین کے مختص کیا جانا طے سمجھا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ نئی تشکیل پانے والی سرسی پارلیمانی نشست بھی خواتین کے لئے مختص ہونے کا امکان جتایا جا رہا ہے ۔ ایسے میں اس سے قبل جن امیدواروں نے ان نشستوں پر سیاسی اکھاڑے میں اترنے کی تیاری کی تھی اب انہیں اپنا لائحہ عمل تبدیل کرنے اور اپنے خاندان سے یا اپنی قریبی اور بھروسہ مند خاتون کو اپنی جگہ میدان میں اتارنے کے لئے تیاری کرنا ضروری ہوگیا ہے ۔
اگر ریاستی سطح پر بات کریں تو حلقوں کی نئی تقسیم کے بعد اسمبلی اور پارلیمانی سیٹوں کی موجودہ تعداد میں یقیناً رد و بدل اور اضافہ ہوگا ۔ ایک اندازے کے مطابق کرناٹکا اسمبلی کی موجودہ 224 نشستیں بڑھ کر 338 ہو جائیں گی جبکہ موجودہ 28 پارلیمانی نشستیں بڑھ کر 42 ہونگی اور اسمبلی میں خواتین کے لئے مختص نشستیں 110 ہو جائیں گی ۔