بنگلورو، 18 جون (ایس او نیوز / ایجنسی) تمل فلم تھگ لائف کی کرناٹک میں ریلیز کو لے کر جاری تنازعے کے درمیان ریاستی نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کنڑا حامی تنظیموں اور کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عدالت کا احترام کریں اور کسی بھی صورت قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ ان کا بیان سپریم کورٹ کی سخت تنبیہ کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں فلم کی نمائش کو روکنے کی دھمکی دینے والوں کو "غنڈہ گروہ" قرار دیا گیا تھا۔
ڈی کے شیوکمار نے واضح الفاظ میں کہا، "ہمیں سپریم کورٹ کی ہدایات کا احترام کرتے ہوئے اس مسئلے کو قانونی اور جمہوری طریقے سے حل کرنا ہوگا۔ ہر شخص کو اپنی حدود کا علم ہونا چاہیے۔ میں تمام تنظیموں اور کارکنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی حد میں رہیں اور قانون کی پاسداری کریں۔"
انہوں نے زور دے کر کہا، "کرناٹک ایک پُرامن ریاست ہے، ہمیں اس شناخت کو برقرار رکھنا ہے۔ بنگلورو ایک بین الاقوامی شہر ہے جہاں تمام زبانوں اور ثقافتوں کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ کنڑ اعوام ہمیشہ کشادہ دل رہے ہیں، لیکن کنڑا زبان کی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس زبان کے وقار کے ساتھ کھڑے ہیں، مگر عدلیہ کے فیصلوں کا احترام بھی ہم سب پر لازم ہے۔"
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی کو اداکار و ہدایتکار کمل ہاسن کے بیان پر اعتراض ہے تو وہ جمہوری انداز میں اپنی ناراضگی کا اظہار کر سکتے ہیں، مگر سینما گھروں کو نقصان پہنچانے یا انہیں جلانے کی دھمکیاں دینا بالکل ناقابل قبول ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت اپنے پاس منتقل کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ کی اس رائے پر سوال اٹھایا جس میں کمل ہاسن کو معافی مانگنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا، "یہ ہائی کورٹ کا کام نہیں کہ وہ کسی کو معافی مانگنے کے لیے کہے۔"
عدالت نے مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "اگر کرناٹک یا بنگلورو کے باشعور عوام سمجھتے ہیں کہ کمل ہاسن کا بیان غیر مناسب تھا، تو وہ اس پر تنقید کر سکتے ہیں، لیکن اس بنیاد پر دھمکیاں دینا اور خوف و ہراس پھیلانا ناقابل قبول ہے۔"