بنگلورو، 5 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ حکومت دیونہلی تعلقہ کے چنارایاپٹنہ علاقے میں جاری زمین حصول (Land Acquisition) کے مسئلے پر کسانوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں 15 جولائی کو دوبارہ اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ حتمی فیصلے لیے جا سکیں۔
آج دیونہلی میں کسانوں، مقامی عوامی نمائندوں اور کسان سنگھرش سمیتی کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اس مسئلے میں حکومت نے زمین حصول کا آخری نوٹیفکیشن پہلے ہی جاری کر دیا ہے۔ تاہم قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے کچھ فیصلے ابھی زیر التوا ہیں، جنہیں سلجھانے کے لیے حکومت کو مزید 10 دن کی مہلت درکار ہے۔
انہوں نے کہا، ’’حکومت کسانوں کے ساتھ بات چیت کے لیے سنجیدہ ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ تمام قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے بعد باہمی رضامندی سے کوئی فیصلہ کیا جائے۔‘‘
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ سدارامیا نے بی جے پی رکن قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) روی کمار کے اُس بیان پر بھی شدید برہمی ظاہر کی جو انہوں نے ریاست کی خاتون چیف سکریٹری کے خلاف دیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ روی کمار کے خلاف مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں قانونی کارروائی کریں۔ انہوں نے اس بیان کو نہ صرف غیر مہذب بلکہ سرکاری افسران کے وقار کے خلاف بھی قرار دیا۔