گلبرگہ ،7 /جولائی (ایس او نیوز /راست ) وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کیخلاف 5 جولائی بروز ہفتہ دوپہر 2:30 مغل گارڈن فنکشن ہال رنگ روڈ گلبرگہ میں طالبات و خواتین کا احتجاجی جلسہ عام منعقد ہوا جو نہایت تاریخ ساز رہا مختلف اسکولس کالجس یونیورسٹیوں کی سینکڑوں طالبات اور مختلف مکاتب فکر و مسالک کی خواتین کی کثیر تعداد میں شرکت کے سبب یہ گلبرگہ کا ایک تاریخی جلسہ بن گیا۔
تقدس مآب حضرت حافظ سید محمد علی الحسینی صاحب سجادہ نشین بارگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز معزز رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و چیرمین کرناٹک اسٹیٹ وقف بورڈ کی زیر سرپرستی اور زیر نگرانی محترمہ کنیز فاطمہ رکن اسمبلی گلبرگہ شمالی اس یادگار احتجاجی جلسہ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے شعبہ خواتین نے منعقد کیا۔محترمہ ڈاکٹر قدوسہ سلطانہ پروفیسر عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد نیجلسہ میں زائد از ایک گھنٹہ طویل خطاب کیا ان کا خطاب کلیدی نہایت بے باکانہ اور معلوماتی رہا۔
ڈاکٹر قدوسہ سلطانہ نے کہا کہ وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کے نفاذ کے ذریعہ مرکزی حکومت کروڑہا رو پیوں کے قیمتی اثاثہ جات کو ہڑپنے اور فروخت کرنے کے ناپاک عزائم رکھتی ہے۔ انہوں نے نئے وقف ترمیم شدہ قانون کو شریعت میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان اسے سیاہ قانون مانتے ہیں اور یہ قانون مسلمانوں کیلئے قطعی قابل قبول نہیں ہے۔
ڈاکٹر قدوسہ سلطانہ نے وقف کی شرعی حیثیت وقف کے آغاز وقف کے مقاصد اور فوائد ہندوستان میں قبل از آزادی اور ما بعد آزادی وقف کی صورتحال وقف کے شرعی اور قانونی اصطلاحات وقف جائدادوں کی اقسام اور ان کا استعمال و تحفظ وقف قوانین میں ہوئیں اب تک کی ترمیمات اور وقف ترمیمی بل 2025 کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ وقف کے فلاحی نظام کو سبوتاژکرنے کیلئے مرکزی حکومت وقف ترمیمی بل 2025 لاگو کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں ہزاروں مساجد ہیں جو 100 سالہ قدیم ہیں لیکن نئے وقف قانون میں 100 سالہ قدیم مساجد وقف سے نکل کر محکمہ آثار قدیمہ کی ملکیت بن جائیں گی ڈاکٹر قدوسہ سلطانہ نے وقف ترمیمی بل 2025 کے متعدد دفعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وقف کے نئے قانون میں وقف اداروں کے رجسٹریشن کو بے حد مشکل کر دیا گیا ہے اور نئی جائدادیں وقف کرنا تقریبا ناممکن ہو گیا ہے نیز وقف جائیدادوں کی اضافہ آمدنی کو واقف کے منشا کے مطابق خرچ نہیں کیا جا سکے گا انہوں نے نئے وقف قانون کے تحت وقف بورڈس کی کارکردگی کو متاثر کرنے اور وقف بورڈس میں غیر مسلم ممبران اور غیر مسلم عہدیداران کی نامزدگی سے وقف کے مفادات پر کاری ضرب پڑھنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تمام وقف جائیدادیں سنی ہیں چونکہ سنیوں نے اس کو وقف کیا ہے تو وقف جائیدادوں کی نگہداشت بھی سنی عقیدے کے ذمہ داران کو ہی کرنا چاہیئے محترمہ جلیسا سلطانہ یاسین کنوینیر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ شعبہ خواتین نے بھی وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے لاگو ہونے کے بعد مسلمان نہ تو کسی جائیداد کو وقف کر سکیں گے اور نہ ہی وقف جائیدادوں سے استفادہ کر سکیں گے اور مساجد مدارس درگاہوں عاشورخانوں قبرستانوں یتیم خانوں وقف کی اراضیات میں واقع مدارس اسکول کالجس کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
محترمہ جلیسا سلطانہ نے نئے وقف قوانین کی بہت ساری خامیوں اور وقف کی اہمیت کو ختم کرنے والے دفعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئے وقف قانون میں لمیٹیشن کی گنجائش کو برخواست کرتے ہوئے مرکزی ریاستی حکومتوں اور ناجائز قابضین کی جانب سے کئے گئے وقف املاک پر ناجائز قبضوں کو برخواست کرنے کی گنجائش یکسر ختم کر دی گئی ہے۔ اس طرح وقف املاک کے ناجائز قابضین وقف املاک کے مالک بن جائیں گے یہ بہت ہی تشویش ناک بات ہے محترمہ ناصرہ خانم سابق سیکریٹری جماعت اسلامی ہند نے جلسہکی صدارت کی انہوں نے صدارتی خطاب میں خواتین و طالبات کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے تحفظ دین کیلئے ہر ممکن قربانی دینے کیلئے تیار رہنے کی تلقین کی محترمہ ناصرہ خانم نے کہا کہ اسلام دین حق ہے اسے دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی انہوں نے مسلمان مرد و خواتین پر زور دیا کہ وہ بلند عزائم و حوصلہ رکھیں اور حالات کا ایمانی طاقت کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کریں محترمہ ناصرہ خانم نے کہا کہ ہمیں اپنے اتحاد کو پارہ پارہ نہیں ہونے دینا چاہیئے صرف جلسوں میں شرکت کیلئے اتحاد نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ہر اسلام مخالف سازش و اسلام دشمن طاقت سے نبرد آزما ہونے کیلئے منظم و متحد ہوتے ہوئے استقامت کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ استعانت الہی کی بھرپور امید کرنا چاہیئے محترمہ ناصرہ خانم نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں کو اسلام کا گہوارہ بنائیں بیٹوں کو تحفظ دین کے لیے تیار کریں اور بیٹیوں کو بزدلی اور ارتداد جیسے فتنوں سے بچائیں ۔
قبل ازیں جلسے کی کارروائی کا آغاز قرات و نعت سے ہوا شہناز اختر ممبر تحریک نساء گلبرگہ نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ گلبرگہ کی مسلم خواتین کا اتحاد بے مثال رہا ہے اور ہر ملی مسئلہ پر ہونے والے احتجاج میں گلبرگہ کی مسلم خواتین نے اپنی غیر معمولی ملی بیداری کا ثبوت دیا ہے ڈاکٹر رئیسہ فاطمہ ممبر تحریک نساء گلبرگہ نے کہا کہ وقف ترمیم بل 2025 کے خلاف احتجاج میں مسلم خواتین کا بہت بڑا رول ہو سکتا ہے اس بات کو محسوس کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وقف ترمیمی بل 2025 کی مخالف مہم میں خواتین کو شامل کیا ہے محترمہ اسریٰ کوثر جماعت اسلامی ہند گلبرگہ نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ وقف ایکٹ 1959 اور 1995 میں وقف بورڈس متولیوں کو دیئے گئے تمام اختیارات و مراعات کو ختم کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے مسلمان وقف ترمیمی قانون 2025 کی اس لئے مخالفت کر رہے ہیں کہ یہ قانون شریعت سے متصادم ہے۔
