ہاسن، 23 جون (ایس او نیوز / ایجنسی)ہاسن ضلع میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران دل کے دوروں سے اموات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے عوام اور ضلعی انتظامیہ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب تک کم از کم بارہ افراد دل کے دورے کا شکار ہو کر جان گنوا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد شامل ہیں۔
حالیہ دنوں میں پیش آنے والے دو تازہ واقعات نے عوامی اضطراب میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بیلورو کے معروف سماجی کارکن نشاد احمد، جن کی عمر 35 برس تھی، جمعہ کی شب اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ وہ چائے کا ہوٹل چلاتے تھے اور کورونا کے دوران لاوارث لاشوں کی تدفین جیسے اہم سماجی فریضے انجام دے چکے تھے۔ ان کی اچانک موت نے علاقے میں غم و اندوہ کی فضا پیدا کر دی ہے۔
اسی روز ہاسن شہر کے ستیامنگل علاقے میں 38 سالہ چیتن، جو موبائل کی دکان کے مالک تھے، گھر پر کھانا کھاتے ہوئے اچانک گر پڑے اور اسپتال لے جاتے وقت دم توڑ گئے۔ ان کی موت سے ان کا خاندان، خاص طور پر ان کی بیوہ اور بچے گہرے صدمے میں ہیں۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران جن دیگر افراد کی موت دل کے دورے سے ہوئی ان میں ارکلگوڑ کے ابھیشیک، ہولے نرسی پورا کی 20 سالہ طالبہ سندیا، ڈگری کالج کی طالبہ کونا، نشانت، بس کنڈکٹر ناگپّا، سابق کونسلر نیلکنٹھپّا، کار میں سفر کے دوران دیوراج، کانتاراجو، محکمہ جنگلات کا ملازم نوین، اور ستییش شامل ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق ان اموات کی اہم وجوہات میں ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، غیر صحت بخش غذا اور ورزش کی کمی شامل ہیں۔ کارڈیالوجسٹوں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں دل کی بیماریوں کی بڑھتی ہوئی شرح نہایت تشویشناک ہے اور اس کا فوری تدارک ناگزیر ہے۔
اس صورت حال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام تعلقہ جات میں ای سی جی اسکریننگ کیمپ منعقد کیے جائیں گے۔ صحت مراکز میں ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور عوامی بیداری مہمات چلائی جائیں گی تاکہ نوجوانوں میں صحت مند طرز زندگی اختیار کرنے کا شعور پیدا کیا جا سکے۔
مقامی سماجی تنظیموں اور عوامی نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان اموات کا سائنسی اور طبی جائزہ لیا جائے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے کہ آیا ماحول، پانی یا دیگر عوامل اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔ مسلسل ہونے والی یہ اموات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے المیہ ہیں بلکہ یہ ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی علامت بھی بنتی جا رہی ہیں۔