ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بیلاری میں سیلاب کا خطرہ، تنگبھدرا جھیل سے پانی کا اخراج، ضلعی انتظامیہ الرٹ — محفوظ مقامات پر منتقلی کی تیاری مکمل

بیلاری میں سیلاب کا خطرہ، تنگبھدرا جھیل سے پانی کا اخراج، ضلعی انتظامیہ الرٹ — محفوظ مقامات پر منتقلی کی تیاری مکمل

Wed, 09 Jul 2025 11:24:58    S O News

بیلاری، 9 جولائی (ایس او نیوز)ضلع بیلاری میں تنگبھدرا جھیل سے دریا میں پانی چھوڑے جانے کے بعد ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ پوری طرح متحرک ہو گئی ہے۔ ضلع آفاتِ سماوی انتظامی اتھارٹی کے صدر اور ڈپٹی کمشنر پرشانت کمار ایم نے متعلقہ افسران کو فوری احتیاطی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

منگل کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقدہ ضلع آفاتِ انتظامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس سال آبی وسائل کی مشاورتی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق تنگبھدرا جھیل میں 80 سے 85 ٹی ایم سی پانی روکنے کے بعد اضافی پانی دریا میں چھوڑا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں دریا کے کنارے واقع دیہاتوں میں سیلاب کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ان علاقوں کے مکینوں کو پہلے ہی محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ تحصیلداروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے علاقوں کا معائنہ کر کے بارش کی موجودہ صورت حال اور زرعی سرگرمیوں پر اثرات سے متعلق رپورٹ محکمہ زراعت کی مشاورت سے حکومت کو پیش کریں۔

ضلع آفاتِ انتظامی افسر پرمیش نے اجلاس کو بتایا کہ اگر جھیل سے ایک لاکھ کیوسک سے زائد پانی چھوڑا گیا تو کمپلی اور گنگاوتی پل کے ساتھ کمپلی علاقے کے دو گاؤں اور سرگپا کا ایک گاؤں متاثر ہو سکتا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں کیئر سینٹرز کے قیام کی مکمل تیاری کر لی گئی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے۔

دریا کے کنارے رہنے والے شہریوں کو روزانہ دریا میں داخل ہونے سے منع کرنے اور مویشیوں و فصلوں کو نقصان سے بچانے کے لیے عوامی بیداری مہم چلانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

اس اجلاس میں اضافی ڈپٹی کمشنر محمد زبیر این، ڈی ڈی ایل آر پرمود، اور ضلع و تحصیل سطح کے دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور ریاستی آفاتِ انتظامی فنڈ کے تحت کی جانے والی تیاریوں اور اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔


Share: