بنگلورو، 17 جون (ایس او نیوز / ایجنسی):چنّاسوامی اسٹیڈیم بنگلورو کے قریب پیش آئے افسوسناک بھگدڑ واقعے پر جہاں ایک جانب ریاست بھر میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے، وہیں اپوزیشن بی جے پی کی جانب سے حکومت پر شدید تنقید اور استعفیٰ کے مطالبے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ سدارامیا نے اس واقعے پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت سیاست سے بالاتر ہو کر شفاف تحقیقات کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا، "یہ ایک افسوسناک حادثہ ہے، اور ایک ذمہ دار حکومت کے طور پر ہم نے فوری قدم اٹھاتے ہوئے اعلیٰ سطحی افسران کو معطل کیا ہے۔" انہوں نے بتایا کہ بنگلور پولیس کمشنر سمیت سینئر پولیس افسران کو معطل کیا گیا ہے، انٹیلیجنس سربراہ کا تبادلہ کیا گیا ہے، اور ان کے سیاسی سکریٹری کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔
سدارامیا نے اعلان کیا کہ ریٹائرڈ جسٹس جان مائیکل کنہا کی سربراہی میں ایک رکنی عدالتی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جو اس واقعے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرے گا۔ انہوں نے کہا، "بی جے پی کی جانب سے کیے جا رہے مظاہرے ہمدردی کے جذبے پر مبنی نہیں بلکہ محض سیاسی مفادات کے تحت کیے جا رہے ہیں۔"
وزیراعلیٰ نے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، "بی جے پی لاشوں پر سیاست کرتی ہے۔ ہر سانحہ ان کے لیے صرف ایک موقع ہوتا ہے سیاسی شور شرابے کا۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر حادثہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ اس کے پیچھے انسانی دکھ اور برباد خاندان ہوتے ہیں، جن کا درد ہم محسوس کرتے ہیں۔"
انہوں نے بی جے پی کی دوغلی سیاست پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ، "2002 کے گجرات فسادات میں ہزاروں بے گناہ مارے گئے، مگر اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے نہ استعفیٰ دیا نہ افسوس ظاہر کیا۔ آج ہماری حکومت سے استعفیٰ مانگنا کس اصول پر مبنی ہے؟"
سدارامیا نے یاد دلایا کہ پہلگام حملے، منی پور تشدد، موربی حادثہ، اور مہاکمبھ کی بھگدڑ جیسے بڑے سانحات میں بی جے پی حکومتوں نے نہ تو کوئی سنجیدہ کارروائی کی، نہ ہی تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے رکھے۔ انہوں نے کہا، "بی جے پی اب بھی سڑکوں پر ڈرامہ بازی بند کرے اور عوام کے سامنے سچائی کا سامنا کرے۔"
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت ریاست کے سات کروڑ عوام کے سامنے جوابدہ ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جو بھی قصوروار ثابت ہوگا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
تقریب کے اختتام پر سدارامیا نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کے لیے عوامی اعتماد سب سے بڑی ترجیح ہے، اور ہم کسی بھی قیمت پر انصاف سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔