گلبرگہ، 25 جون (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک کے وزیر برائے دیہی ترقیات و پنچایت راج اور ضلع گلبرگہ کے نگراں کار وزیر پریانک کھرگے نے سینئر رکن اسمبلی بی آر پاٹل کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے کوئی تحفظات تھے تو وہ براہ راست وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ یا پارٹی قیادت سے رجوع کرتے، میڈیا میں کھلے عام بیان بازی کرنا حکومت کے وقار کے لیے مناسب نہیں۔
ایوان شاہی گیسٹ ہاؤس، گلبرگہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پریانک کھرگے نے کہا کہ بی آر پاٹل سینئر لیڈر ہیں اور ان کی سماجی خدمات اور اصول پسندی کا وہ احترام کرتے ہیں، لیکن موجودہ طرزِ احتجاج قابلِ افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اختلافات کو پارٹی پلیٹ فارم پر اُٹھایا جانا چاہیے۔
بی آر پاٹل کے اس الزام پر کہ کرناٹک کو محروم رکھ کر آسام اور گجرات جیسے ریاستوں کو مرکز سے فنڈز دیے جا رہے ہیں، وزیر کھرگے نے وضاحت کی کہ مرکزی حکومت نے 15ویں مالیاتی کمیشن کے تحت ریاست کو 50,000 کروڑ روپے کم دیے، جس کے سبب ریاست کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ جل جیون مشن کے تحت بھی ریاست کو 2,700 کروڑ روپے ملنے تھے، مگر مرکز نے صرف 500 کروڑ جاری کیے، اس کے باوجود ریاستی حکومت نے ترقیاتی منصوبے جاری رکھے۔
جے دیو اسپتال میں مقامی افراد کی بھرتی سے متعلق بی آر پاٹل کے اعتراضات پر پریانک کھرگے نے کہا کہ ترقیاتی کام کسی علاقے میں ہوں تو مقامی لوگوں کو روزگار ملنے کی امید فطری ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جس افسر پر بدعنوانی کا الزام لگا ہے، اس نے فون پر ان الزامات کو مسترد کیا ہے، اور اگر ثبوت پیش کیے جائیں تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔
بی آر پاٹل کے ترقیاتی سرگرمیوں کے جمود سے متعلق بیان کو رد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے گارنٹی اسکیموں پر 50,000 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں، جس سے ریاست کی معیشت کو تقویت ملی ہے۔
امریکہ کے مجوزہ سرکاری دورے کی مرکزی حکومت کی طرف سے منسوخی پر تبصرہ کرتے ہوئے پریانک کھرگے نے اسے خالص سیاسی فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے سے ریاست کو 15,000 کروڑ روپے کی ممکنہ سرمایہ کاری سے محروم ہونا پڑا اور تقریباً 3,000 ملازمتیں ضائع ہو گئیں، جب کہ سابقہ امریکی دورے سے ریاست کو 32,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 20,000 سے زائد روزگار کے مواقع حاصل ہوئے تھے۔
ریاستی وزیر ضمیر احمد کے استعفیٰ کے مطالبے پر طنزیہ انداز میں انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو پہلے اپنے ریاستی صدر کے استعفیٰ پر غور کرنا چاہیے۔ پریانک کھرگے نے زور دیا کہ بی آر پاٹل جیسے سینئر رہنماؤں کو پارٹی کے اندرونی پلیٹ فارم پر گفتگو کرنی چاہیے نہ کہ میڈیا میں حکومت کو نشانہ بنانا چاہیے۔
اس پریس کانفرنس میں ارکان اسمبلی الم پربھو پاٹل، تیپّنپا کمکنور اور جگدیو گتّےدار بھی موجود تھے۔