کرناٹک کا ضلع گلبرگہ، جو اپنی صوفیانہ روایات اور گنگا-جمنی تہذیب کی آماجگاہ رہا ہے، آج ایک ایسے واقعے کا مرکز بنا جس نے پورے ملک کے سماجی ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ریاست کا پسماندہ مگر تاریخی، تہذیبی ،علمی اور روحانی شناخت رکھنے والے ضلع میں خدمات انجام دینے والی ڈپٹی کمشنر محترمہ فوزیہ ترنم کے خلاف ریاستی بی جے پی کے ایک ایم ایل سی کا متنازع بیان محض سیاسی شوشہ نہیں، بلکہ ایک ایسے ذہنی رویے کی عکاسی ہے جو مذہب، لباس اور شناخت کی بنیاد پر ایک منتخب، باوقار افسر پر انگلی اٹھانے کی جرأت کرتا ہے۔"کیا وہ پاکستان سے آئی ہیں؟"—یہ سوال نہ صرف بدزبانی کا نمونہ ہے بلکہ ایک ایسے تعصب کا نمائندہ بھی، جو ہندوستان جیسے جمہوری، کثرت پسند ملک میں خطرناک انداز میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ یہ سوچ کہ ایک مسلمان خاتون، جو حجاب پہن کر ریاستی خدمات انجام دے رہی ہیں، مشکوک ہے، ہماری جمہوری اور آئینی روح پر کاری ضرب ہے۔
فوزیہ ترنم، ان نایاب مسلم خواتین میں سے ہیں جنہوں نے اپنی محنت، قابلیت اور دیانتداری سے یہ عہدہ حاصل کیا۔ ان کا تعلق ایک ایسی اقلیتی برادری سے ہے جہاں تعلیم یافتہ خواتین کی شرح کم ہے، اور سرکاری ملازمتوں میں نمائندگی بھی محدود۔ ایسے میں ایک باحجاب مسلم خاتون کا ڈپٹی کمشنر جیسے اہم عہدے پر فائز ہونا نہ صرف قابلِ فخر ہے بلکہ ہندوستانی جمہوریت کی کامیابی کی علامت بھی ہے۔ جنہوں نے اپنے نظم و نسق، شفافیت اور اصول پسندی سے نہ صرف بیوروکریسی پر عوام کا اعتماد بحال رکھا، بلکہ اقلیتوں کے اندر بھی ایک احساسِ تحفظ پیدا کیا۔ ان کا حجاب، جو ان کی مذہبی و ثقافتی شناخت کا مظہر ہے، ان کے خلوصِ نیت اور محنت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ ان کی انفرادیت کا حسین پہلو ہے۔
لیکن جب ایک ریاستی رکنِ قانون ساز کونسل یہ کہے کہ "ان کی وفاداری مشکوک ہے"، تو یہ محض ایک فرد کی توہین نہیں، بلکہ بیوروکریسی کی آزادی، آئینی مساوات، اور خواتین کی عزتِ نفس پر براہِ راست حملہ ہے۔ یہ بیانیہ اس ذہنیت کو بڑھاوا دیتا ہے جو مذہب و لباس کی بنیاد پر حب الوطنی ناپنے کا رجحان پروان چڑھا رہی ہے۔فوزیہ ترنم جیسی افسران نہ صرف اپنی قابلیت سے نظام کو بہتر بناتی ہیں بلکہ وہ اس سسٹم کی وہ علامت ہیں جس پر اقلیتوں کا اعتماد قائم ہے۔ ان کے خلاف اٹھائے گئے سوالات گویا اس کوشش کا حصہ ہیں جو اقلیتی خواتین کو قومی دھارے سے الگ تھلگ رکھنے کی دانستہ سازش کی غمازی کرتے ہیں۔ایسے وقت میں جب ملک بھر میں بیوروکریسی پر سیاسی مداخلت کے الزامات شدید ہو چکے ہیں، ایک عوامی نمائندے کا اس حد تک گر جانا بیوروکریسی کے وقار اور خودمختاری کے لیے ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے۔ تاہم خوش آئند پہلو یہ ہے کہ کرناٹک آئی اے ایس ایسوسی ایشن نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے نہ صرف بیان کی شدید مذمت کی، بلکہ قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ بیان اشتعال انگیز اور افسران کی توہین کے مترادف ہے۔ اسی طرح کے اے ایس افسران کی تنظیم نے بھی قانون ساز کونسل کے چیف وہپ کے ذریعے خاتون افسر کے خلاف دیے گۓ ریمارک کی شدید مذمت کی ہے ۔یہ شاید پہلا موقع ہے جب کسی مسلم، باحجاب خاتون افسر کے خلاف بیان پر ادارہ جاتی سطح پر اتنی مضبوط اور بروقت مذمت سامنے آئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں آئینی شعور مکمل طور پر مٹایا نہیں جا سکا ہےافسوس کی بات یہ ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتوں نے اس حساس معاملے پر خاموشی اختیار کی۔ بی جے پی نے نہ تو اس بیان سے خود کو علیحدہ کیا اور نہ ہی متعلقہ ایم ایل سی کے خلاف کوئی کارروائی کی۔ کانگریس، جو ریاست کی حکمراں جماعت ہے، طویل خاموشی کے بعد محض رسمی بیانات تک محدود رہی، جو ظاہر کرتا ہے کہ اصولی موقف کی جگہ اب سیاسی مصلحتوں نے لے لی ہے۔یہ معاملہ اس عمومی رویے کو بھی نمایاں کرتا ہے جس میں اقلیتی خواتین—خصوصاً باحجاب اور تعلیم یافتہ—کو ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک اعلیٰ افسر کی حب الوطنی، دیانتداری اور فرض شناسی کو لباس یا مذہب سے مشروط کرنا اس ذہنی افلاس کی علامت ہے جو پورے سماج کو زہریلی انتہاپسندی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ میں جب یہ معاملہ پہنچا تو فاضل جج نے روی کمار کو ہدایت دی کہ روی کمار کو واضح ہدایت دی گئی ہے کہ وہ محترمہ فوزیہ ترنم سے ذاتی طور پر تحریری معافی مانگیں، اور اس معافی کو باضابطہ طور پر ریکارڈ میں لایا جائے۔ مزید یہ کہ اس معافی کی قبولیت فوزیہ ترنم کی صوابدید پر ہوگی، اور اسی کی بنیاد پر روی کمار کی ضمانت پر غور کیا جائے گا۔ اس طرح یہ مسئلہ اب محض اخلاقی و سیاسی نہیں بلکہ قانونی پیچیدگی اختیار کر چکا ہے، جس پر عوامی سطح پر بھی مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔وہ ذاتی طور پر فوزیہ ترنم سے معافی مانگیں۔ یہ فیصلہ نہایت اہم ہے کیونکہ یہ صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ پورے ادارہ جاتی نظام کا وقار بحال کرنے کا موقع ہے۔ اگر اب بھی کوئی کارروائی نہ ہوئی تو یہ نظیر بن جائے گی کہ عوامی نمائندے اقلیتوں، خصوصاً خواتین کو ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنا سکتے ہیں اور بچ نکل سکتے ہیں۔
فوزیہ ترنم کا اگر کوئی "جرم" ہے، تو وہ صرف یہ کہ وہ ایک مسلمان ہیں، ایک باحجاب خاتون ہیں، اور اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ ریاستی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ جبکہ درحقیقت شرمندگی ان عناصر کو ہونی چاہیے جنہوں نے ایک محب وطن، قانون پسند اور باصلاحیت خاتون کی کردار کشی کی۔روی کمار کا بیان محض بداخلاقی نہیں، بلکہ آئین کی روح، جمہوری اخلاق اور صنفی مساوات کے منافی ہے۔ عوامی نمائندوں کو اپنی زبان کے استعمال میں شائستگی، آئینی حدود اور اجتماعی حساسیت کا پاس رکھنا چاہیے۔ جب سیاسی رہنما ایسی زبان بولتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنی جماعت بلکہ پورے نظام کی ساکھ کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
جس ملک میں دستور کی پہلی سطر "ہم ہندوستان کے لوگ…" سے شروع ہوتی ہو، وہاں کسی افسر کے لباس کو اس کی حب الوطنی سے جوڑ دینا صرف غیر آئینی حرکت ہی نہیں بلکہ آئین کے چہرے پر ایک طنزیہ قہقہہ ہے۔ یہ سوال اب ہر ہندوستانی کے ضمیر پر دستک دے رہا ہے: کیا ہم ایک ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں نام، عقیدہ اور لباس حب الوطنی کے پیمانے بن جائیں؟اگر ہم واقعی ایک متحد، بااصول اور مہذب جمہوری معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سیاست، بیوروکریسی اور عوامی سطح پر ایسے ذہنی رجحانات کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا جو شناخت، مذہب اور لباس کی بنیاد پر نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔
میڈیا اور سول سوسائٹی کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس واقعے کو ایک وقتی تنازع نہ سمجھیں، بلکہ اس کے دور رس اثرات کا سنجیدہ تجزیہ کریں، تاکہ رائے عامہ بیدار ہو اور اقلیتوں کے اندر تحفظ کا احساس بحال ہو سکے۔
فوزیہ ترنم صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک علامت ہیں۔ ان پر حملہ، درحقیقت اُس ہندوستان پر حملہ ہے جو گنگا-جمنی تہذیب، آئینی مساوات اور غیر جانبدار بیوروکریسی پر یقین رکھتا ہے۔ اگر ہم نے وقت رہتے آواز نہ اٹھائی تو یہ خاموشی تاریخ کے صفحات پر ہماری ضمیر کی شکست کے طور پر لکھی جائے گی۔یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ ہمیں طے کرنا ہوگا کہ ہم کیسا ہندوستان چاہتے ہیں—ایک ایسا ہندوستان جہاں ہر فرد کو اس کی اہلیت، کارکردگی اور کردار سے پرکھا جائے، یا پھر وہ ہندوستان جہاں نام، عقیدہ اور لباس ہی وفاداری کی کسوٹی بن جائیں۔
(مضمون نگار معروف صحافی وتجزیہ نگار ہیں)