ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / مرکز کی مالی ناانصافی سے کرناٹک کو 80 ہزار کروڑ کا نقصان: وزیر اعلیٰ سدارامیا

مرکز کی مالی ناانصافی سے کرناٹک کو 80 ہزار کروڑ کا نقصان: وزیر اعلیٰ سدارامیا

Mon, 23 Jun 2025 17:33:44    S O News

رائچور، 23 جون (ایس او نیوز / ایجنسی)وزیر اعلیٰ سدارامیا نے مرکز پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کرناٹک ریاست کو مالیاتی تقسیم میں زبردست ناانصافی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں ریاست کو اندازاً 80 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14ویں اور 15ویں مالیاتی کمیشن کے درمیان مرکز کی جانب سے ریاست کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا، اور حیرت انگیز طور پر بی جے پی کے کسی بھی رکن پارلیمان نے اس ناانصافی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔

سدارامیا نے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مرکز نے 11,495 کروڑ روپے کی خصوصی امداد منظور کی تھی، مگر جوشی نے اس گرانٹ کو جاری کرانے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پرہلاد جوشی جیسے وزراء میں کرناٹک کے مفادات کے حق میں بولنے کا اخلاقی حوصلہ نہیں ہے، باوجود اس کے کہ وہ وزیر اعظم کے قریبی تصور کیے جاتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حالیہ دہلی دورے کے دوران انہوں نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کا وقت طلب کیا ہے تاکہ ریاست کے کئی زیر التواء بلوں پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ 16ویں مالیاتی کمیشن کو ریاست کے لیے زیادہ فنڈ مختص کرنے کی اپیل کی گئی ہے، خاص طور پر کلیان کرناٹک خطے کی ترقی کے پیش نظر۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت ہر سال کلیان کرناٹک کو 5,000 کروڑ روپے امداد دیتی ہے، اور اب مرکز سے بھی اسی طرز پر تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ کلیان کرناٹک کی ترقی کے لیے ایک علیحدہ مرکزی وزارت کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے۔

ایس ایس ایل سی امتحانات کے خراب نتائج پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اعتراف کیا کہ اساتذہ کی شدید قلت اس کا بڑا سبب ہے۔ تاہم، انہوں نے وضاحت کی کہ نئی اسامیوں پر تقرری کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں، اور حکومت تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے جلد مؤثر اقدامات کرے گی۔

غیر قانونی کانکنی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ وزیر ایچ کے پاٹیل نے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ سنتوش ہیگڈے کی رپورٹ کو نافذ کرنے اور معاملے کی شفاف جانچ کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کی جائے۔ اس مطالبے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سدارامیا نے کہا کہ کانگریس ایم ایل اے راجو کاگے کی ناراضگی کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے، اور ان کے ترقیاتی فنڈز سے متعلق مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ اسی طرح ہاؤسنگ وزیر کے استعفیٰ کے مطالبے پر بیلورو گوپال کرشنا کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کی چھان بین کی جا رہی ہے، اور رکن اسمبلی بی آر پاٹیل سے 25 جون کو ملاقات کر کے تمام الزامات پر بات چیت کی جائے گی۔


Share: