ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / اساتذہ مردم شماری سے مستثنیٰ، تعلیمی نظام متاثر نہ ہو اس لیے حکومت کا فیصلہ: مدھو بنگارپا

اساتذہ مردم شماری سے مستثنیٰ، تعلیمی نظام متاثر نہ ہو اس لیے حکومت کا فیصلہ: مدھو بنگارپا

Mon, 23 Jun 2025 11:30:33    S O News

شیموگہ، 23 جون (ایس او نیوز/ایجنسی)کرناٹک کے وزیر برائے اسکولی تعلیم و خواندگی ایس مدھو بنگارپا نے اعلان کیا ہے کہ ریاست میں آئندہ مجوزہ سماجی، تعلیمی اور اقتصادی سطح پر ذات پات پر مبنی مردم شماری میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مردم شماری کا کام اس بار آؤٹ سورس ایجنسیوں کو سونپا جائے گا تاکہ تدریسی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

مدھو بنگارپا نے کہا کہ اگر اساتذہ کو مردم شماری کے کام میں لگایا گیا تو تعلیمی عمل بری طرح متاثر ہو گا، کیونکہ اسکولوں میں تدریس کئی ہفتوں تک بند پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات سے سبق لیتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بار اساتذہ کو مردم شماری جیسے غیر تدریسی کاموں سے الگ رکھا جائے گا۔

انہوں نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ذات پات پر مبنی مردم شماری کے حوالے سے مرکز نے عوامی دباؤ اور راہل گاندھی کی قیادت میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) کے مسلسل مطالبات کے بعد اس کی منظوری دی۔ تاہم، کرناٹک کی کانگریس حکومت یہ مردم شماری آئین کے دائرے میں رہ کر کر رہی ہے تاکہ ہر طبقے کو مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ریاستی سطح پر کی جانے والی مردم شماری زیادہ شفاف، منظم اور قابلِ اعتماد ہوگی۔

مدھو بنگارپا نے ریٹائرڈ جسٹس ناگ موہن داس کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں مطالبہ کیا کہ پسماندہ طبقات کے لیے داخلی ریزرویشن سے متعلق سفارشات پر مشتمل رپورٹ جلد از جلد حکومت کو سونپی جائے۔

تعلیم کے شعبے سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر موصوف نے انکشاف کیا کہ اس وقت ریاست میں تقریباً 51 ہزار اساتذہ کی کمی ہے۔ حکومت نے 18 ہزار نئے اساتذہ کی بھرتی کی منظوری دے دی ہے، اور جیسے ہی ریزرویشن کی درجہ بندی کا عمل مکمل ہو گا، بھرتی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ فی الحال ریاست میں مہمان اساتذہ (گیسٹ فیکلٹی) کے ذریعے تدریسی عمل جاری ہے۔


Share: