ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / وقف ترمیمی قانون کے خلاف ریاست گیر پُرامن احتجاج: مساجد کے سامنے انسانی زنجیر، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا پُراثر پیغام

وقف ترمیمی قانون کے خلاف ریاست گیر پُرامن احتجاج: مساجد کے سامنے انسانی زنجیر، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا پُراثر پیغام

Sat, 05 Jul 2025 11:19:29    S O News

بنگلورو، 5 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)مرکزی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ متنازعہ وقف ترمیمی قانون 2023 کے خلاف ریاست بھر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اپیل پر پُرامن، خاموش مگر پُراثر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس احتجاج کا مقصد حکومت کو اقلیتوں کے مذہبی و معاشی حقوق میں مداخلت سے باز رکھنے کا واضح پیغام دینا تھا۔

نماز جمعہ کے بعد ریاست کے مختلف اضلاع بشمول بنگلورو، ٹمکورو، گلبرگہ، بیدر، رائچور، چکمگلورو، کولار، سرینواس پور، اددگل، الکل، یادگیر، بیلگاوی اور وجئے پور میں ہزاروں کی تعداد میں عوام، علماء، طلباء اور مساجد کی جماعتوں کے بزرگ و نوجوان شریک ہوئے۔ انہوں نے سیاہ پٹیاں باندھ کر اور ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا کر انسانی زنجیر بنائی۔

ان پلے کارڈز پر درج نعرے جیسے:"وقف بل واپس لو"، "مذہبی امور میں مداخلت بند کرو"، اور "اقلیتوں کو نشانہ بنانا بند کرو" نے اس احتجاج کے پیغام کو مزید مؤثر اور بامقصد بنا دیا۔

کئی مقامات پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ترمیمی قانون آئینی اصولوں، اقلیتوں کے مذہبی تشخص اور وقف املاک کی خودمختاری کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت اس قانون کے ذریعے وقف جائیدادوں کے نظم و نسق میں مداخلت کا راستہ ہموار کر رہی ہے، جسے ملت اسلامیہ کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گی۔

یہ ریاست گیر احتجاج مقامی مساجد کی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں کی قیادت میں پرامن طریقے سے انجام پایا۔ شرکاء نے پرعزم انداز میں کہا کہ اگر حکومت نے اس "اقلیت مخالف سیاہ قانون" کو واپس نہیں لیا تو احتجاج کو مزید وسعت دی جائے گی اور اسے ملک گیر سطح پر منظم تحریک کی صورت دی جائے گی۔

شرکاء نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ مذہبی آزادی، وقف کی خودمختاری اور اقلیتوں کے حقوق پر کسی بھی طرح کی سودے بازی قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج آئندہ بھی مختلف شکلوں میں جاری رہے گا اور مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت اس ترمیمی قانون کو فی الفور واپس لے۔

یہ احتجاج اس بات کا عملی ثبوت بن گیا کہ ملت اسلامیہ متحد ہو کر اپنے آئینی، مذہبی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے پُرامن مگر مؤثر انداز میں آواز بلند کر سکتی ہے۔


Share: