مینگلورو، 3 جولائی (ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی چیف سکریٹری شالنی رجنیش کے خلاف بی جے پی ایم ایل سی این روی کمار کی جانب سے دئیے گئے توہین آمیز بیان کے خلاف ریاست بھر میں ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ دکشن کنڑا ضلع خواتین کانگریس کی جانب سے مینگلورو کے مالیکٹے میں کانگریس دفتر کے قریب ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا، جس میں مظاہرین نے بی جے پی کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے غصے کا اظہار کیا۔
اس موقع پر کرناٹک ریاستی خواتین کانگریس کی صدر سومیّا ریڈی نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایم ایل سی این روی کمار کو فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے، کیونکہ انہوں نے ایک اعلیٰ سرکاری افسر خاتون کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز تبصرہ کیا ہے، جو ناقابل برداشت ہے۔
دوسری جانب، بی جے پی ایم ایل سی این روی کمار کے خلاف جمعرات کو بنگلورو کے ودھان سودھا پولیس تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس نے یہ کارروائی جے پی نگر کے نندادیپ مہیلا سنگھا کی صدر ناگرَتنا کی طرف سے دی گئی شکایت کی بنیاد پر کی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ روی کمار کو پوچھ گچھ کے لیے جلد ہی نوٹس جاری کیا جائے گا اور اس معاملے میں آئندہ قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ودھان سودھا میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے منعقدہ ایک احتجاجی پروگرام کے دوران اپوزیشن کے چیف وہِپ روی کمار نے بیان دیا تھا کہ "چیف سکریٹری شالنی رجنیش رات بھر ریاستی حکومت اور پورے دن وزیر اعلیٰ کے لیے کام کرتی ہیں"۔ ان کے اس بیان کو خواتین کے خلاف توہین آمیز اور غیر مہذب قرار دیا گیا ہے، جس پر شدید عوامی اور سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس بیان کے خلاف کانگریس نے بھی ودھان پریشد کے صدر بسوراج ہورَٹی کو باقاعدہ شکایت پیش کی ہے۔