بنگلورو، 18 جون (ایس او نیوز ) : علماء و عمائدین کے وفد نے وزیر اعلیٰ سدارامیا سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ریزرویشن پر تفصیلی نمائندگی کرنے کے ساتھ ساتھ کے جی ہلّی اور ڈی جے ہلّی کے نوجوانوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا اور گئو رکھشا کے نام پر قانون کو ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے پر بھی زور دیا۔ وفد نے بیلگام، بسواکلیان اور بنگلورو کے فریزر ٹاؤن میں ہونے والے حالیہ واقعات اور بعض شرپسند عناصر جیسے پنیت کیرے ہلی کی طرف سے مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر خوف و دہشت پھیلانے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔
بنگلور کے کرشنا سی ایم ہوم آفس میں منگل کو ریاستی وزیر برائے اقلیتی بہبود و اوقاف جناب بی زیڈ ضمیر احمد خان کی قیادت میں علماء کرام اور مسلم عمائدین کے نمائندہ وفد نے وزیر اعلیٰ سدارامیا سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست میں مسلمانوں کو درپیش مختلف سماجی و قانونی مسائل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا او ر ر یاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگاڑنے والی سرگرمیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ۔ وفد نے وزیر اعلیٰ پر واضح کیا کہ قانون کا نفاذ صرف پولیس کا اختیار ہے، نہ کہ کسی مذہبی یا فرقہ وارانہ تنظیم کا۔ اس لیے بجرنگ دل اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے کارکنان کی غیرقانونی سرگرمیوں کو فوری روکا جائے۔

وفد نے تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو ریزرویشن دیے جانے کے مسئلے پر بھی زور دیا۔ پسماندہ طبقات کمیشن کی جانب سے مسلمانوں کو 8 فیصد ریزرویشن دینے کی سفارش کا حوالہ دیتے ہوئے اس پر فوری عمل درآمد کی مانگ کی گئی۔ نمائندوں نے کہا کہ مسلمانوں میں ذات یا ذیلی ذات کا کوئی نظام موجود نہیں ہے، مگر جو مسلمان پیشہ ورانہ بنیاد پر پسماندہ زمرے میں آتے ہیں، ان کو ان کا حق دلایا جائے۔
اس موقع پر بنگلورو کے کے جی ہلی اور ڈی جے ہلی تشدد کے سلسلے میں گرفتار بے قصور نوجوانوں کی رہائی کا مسئلہ اُٹھاتے ہوئے وفد نے بتایا کہ یہ نوجوان گزشتہ پانچ سالوں سے جیل میں ہیں، اور ان کی رہائی میں تاخیر سے انصاف کے تقاضے پامال ہو رہے ہیں۔ وفد نے حکومت سے اپیل کی کہ ان کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
وزیر اعلیٰ سدارامیا نے وفد کی تمام باتوں کو توجہ سے سنا اور ہر مسئلے پر سنجیدگی سے کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیا۔
وفد میں ضمیر احمد خان کے علاوہ وزیر اعلیٰ کے سیاسی سکریٹری نصیر احمد، خطیب و امام جامع مسجد بنگلور مولانا مقصود عمران رشادی، صدر جمعیت العلماء کرناٹک مفتی افتخار احمد قاسمی، سکریٹری جمعیت العلماء محب اللہ امین، امیر جماعت اسلامی ہند کرناٹک ڈاکٹر سعد بیلگامی، مولانا وحید الدین عمری، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن عاصم افروز سیٹھ، مولانا شاکر اللہ رشادی، صدر ملی کونسل کرناٹک مولانا نوشاد عالم قاسمی، نائب امیر جماعت اسلامی یوسف کنی اور دیگر سرکردہ افراد شامل تھے۔