بنگلورو، 28 جون (ایس او نیوز/ایجنسی) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبالے کی جانب سے ہندوستانی دستور کی تمہید سے ’’سماجوادی‘‘ اور ’’سیکولر‘‘ جیسے الفاظ کو حذف کرنے کے مطالبے پر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک سنگین اور حساس مسئلہ ہے جس پر قومی سطح پر سنجیدہ مباحثہ ہونا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چونکہ یہ مطالبہ بی جے پی کے اعلیٰ کمان سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک شخص کی طرف سے آیا ہے، اس لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو خود قوم کے سامنے آکر اس پر اپنی واضح رائے رکھنی چاہیے۔
اپنے ایک تفصیلی بیان میں سدارامیا نے کہا کہ ’’سماجوادی‘‘ اور ’’سیکولر‘‘ جیسے الفاظ ہندوستانی جمہوریت کی بنیادی روح ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ 42ویں ترمیم کے ذریعے انہیں دستور کی تمہید میں شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ان الفاظ کو شامل کرنے کی ضرورت اس وقت محسوس ہوئی جب آر ایس ایس اور جن سنگھ کی جانب سے جمہوری اقدار پر حملے کیے جا رہے تھے۔
سدارامیا نے آر ایس ایس کی جانب سے دستور کی مسلسل مخالفت کو تاریخی حوالوں سے اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے یہ دستور قوم کو پیش کیا، صرف چار دن بعد آر ایس ایس کے ترجمان "آرگنائزر" نے اس پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے "غیر ہندوستانی" قرار دیا تھا۔ اسی طرح آر ایس ایس کے نظریہ سازوں ایم ایس گولوالکر اور وی ڈی ساورکر کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان لوگوں نے ہمیشہ ہندوستانی دستور کو مسترد کیا اور "منو سمرتی" کو اصل ہندو قانون قرار دیا۔
سدارامیا نے مزید کہا کہ بی جے پی نے کبھی بھی آر ایس ایس کے ان متنازع نظریات سے فاصلہ نہیں رکھا، اور جب بھی مرکز میں ان کی حکومت بنتی ہے تو آر ایس ایس اور بی جے پی کے مختلف رہنما دستور میں تبدیلی کی باتیں آزمائشی بیان کے طور پر عوام کے درمیان پھیلاتے ہیں تاکہ ان کے ردعمل کو جانچا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بی جے پی نے اپنے ان مذموم ارادوں کو ترک نہ کیا، تو ملک کے جمہوریت پسند عوام انہیں مناسب سبق سکھانے میں دیر نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ لوک سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی کے بعض رہنماؤں نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی پارٹی کو 400 نشستیں مل گئیں تو وہ دستور میں ترمیم کریں گے، لیکن عوام نے ان عزائم کو مسترد کر دیا۔
دریں اثناء ایک عوامی پروگرام کے بعد وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ریاستی وزیر کے این راجنا کے ایک حالیہ بیان پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے ان کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجنا نے پارٹی میں اختلافات کی بات نہیں کی، بلکہ ریاستی سیاست میں ممکنہ تبدیلیوں کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے میڈیا سے گزارش کی کہ وہ اس بیان کو زیادہ اہمیت نہ دے۔