بنگلورو، 3 جولائی (ایس او نیوز):کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بدھ کے روز کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ سدارامیا کی حمایت جاری رکھیں گے اور کانگریس ہائی کمان جو بھی فیصلہ کرے گی، اُسے قبول کریں گے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب گودی میڈیا میں ریاست میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔
ڈی کے شیوکمار نے بنگلورو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: میں سدارامیا کے ساتھ کھڑا ہوں، میں ان کی حمایت کرتا ہوں اورسدرامیا کے وزیراعلیٰ ہونے پر مجھے کسی طرح کا اعتراض نہیں۔آگے کہا کہ پارٹی ہائی کمان جو بھی کہے گی اور جیسی اس کی خواہش ہوگی، وہ اُسی پر عمل کریں گے۔
یاد رہے کہ قیادت کی تبدیلی کی خبریں کافی دنوں سے گودی میڈیا کی سرخیاں بٹوررہی ہیں، جس کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری رندیپ سرجے والا کے بینگلور پہنچنے کی اطلاعات آنے لگی اور کہا گیا کہ انہوں نے ریاستی ایم ایل ایز سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جسے بعض حلقے قیادت کی تبدیلی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ تاہم ڈی کے شیوکمار نے واضح کیا کہ یہ ملاقاتیں صرف پارٹی تنظیم کو مضبوط کرنے کے مقصد سے ہو رہی ہیں، جیسا کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی ہدایت ہے۔
انہوں نے کہا: "اے آئی سی سی کے جنرل سیکریٹریز پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے پر بات کر رہے ہیں، ایم ایل ایز کی درخواستیں سن رہے ہیں، لیکن نہ تو وزیر اعلیٰ کی تبدیلی پر کوئی گفتگو ہو رہی ہے اور نہ کابینہ کی توسیع پر۔"
ڈی کے شیوکمار، جو کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بھی ہیں، نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ کی دوڑ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ انہوں نے کہا: "اس پارٹی کے لیے لاکھوں کارکنوں نے قربانیاں دی ہیں، یہ صرف ڈی کے شیوکمار کا معاملہ نہیں ہے۔"
یاد رہے کہ مئی 2023 کے اسمبلی انتخابات کے بعد وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے سدارامیا اورڈی کے شیوکمار کے درمیان سخت مقابلہ ہونے کی خبریں میڈیا میں آرہی تھیں۔ بعد ازاں پارٹی نے ڈی کے شیوکمار کو نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے پرمنتخب کیا تھا۔
اس کے بعد گودی میڈیا میں یہ اطلاعات آرہی تھیں کہ ایک سمجھوتہ ہوا ہے جس کے تحت ڈھائی سال بعد ڈی کے شیوکمار کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا، تاہم پارٹی نے آج تک اس پر باضابطہ طور پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔
بدھ کے روزڈی کے شیوکمار نے پارٹی میں کسی اندرونی اختلاف کی خبروں کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ جب تک سدارامیا وزیر اعلیٰ ہیں، قیادت کے حوالے سے کوئی اختلاف موجود نہیں