منڈیا، 24 جون (ایس او نیوز / ایجنسی) کرناٹک کے ضلع منڈیا میں واقع سری رنگا پٹن حلقہ سے کانگریس کے رکن اسمبلی رمییش بنڈی سدے گوڑا کا ایک متنازع اور اشتعال انگیز بیان منظرِ عام پر آیا ہے، جس نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ رمییش نے سرعام ایک جلسے کے دوران کہا کہ اگر کسی ریونیو افسر نے مسلمانوں (سابر طبقہ) کے نام سرکاری زمین الاٹ کی تو وہ اُس افسر کو پھانسی تک پہنچا دیں گے۔
یہ بیان منڈیا کے مہادیوپور میں ایک سرکاری پروگرام کے دوران دیا گیا، جہاں زمین کے مالکانہ حقوق سے متعلق معاملات زیر بحث تھے۔ اس موقع پر ایم ایل اے نے ریونیو افسران کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا:"کسی بھی صورت میں مسلمانوں کے نام سرکاری زمین الاٹ نہ کی جائے، یہ ریاست کی زمین ہے۔ اگر کسی نے مسلمانوں کو زمین دی تو میں اسے پھانسی دلاؤں گا۔"
رمییش بنڈی سدے گوڑا نے مزید خبردار کیا کہ اگر کسی سابر (مسلمان) کے نام زمین کی رجسٹری یا الاٹمنٹ ہوا، تو وہ ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں گے اور سخت ترین کارروائی کریں گے۔
یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے، اور مختلف طبقات کی جانب سے سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ کئی سماجی کارکنوں، اقلیتی نمائندوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسے کھلی نفرت انگیزی اور آئینی اقدار کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور انسانی حقوق کمیشن اس معاملے کا نوٹس لیں۔
ذرائع کے مطابق، مقامی کسانوں کی جانب سے یہ شکایت سامنے آئی تھی کہ ریونیو افسران مبینہ طور پر مسلمانوں کو سرکاری زمینیں الاٹ کر رہے ہیں، جس کے بعد یہ مسئلہ مقامی سطح پر کشیدگی کا سبب بنا۔
رمییش بنڈی سدے گوڑا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اقلیتوں کے تحفظ کی بات کی جا رہی ہے۔ کانگریس جیسی قومی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک ایم ایل اے کا یہ متنازع بیان پارٹی کی امیج پر بھی سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ابھی تک کانگریس قیادت یا ریاستی حکومت کی طرف سے اس معاملے پر کوئی واضح بیان یا موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم عوامی سطح پر اس بیان کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔