کلبرگی، 6 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے نے کہا کہ انسان اگر فطرت سے رشتہ توڑ دے گا تو زندگی کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’ماحولیاتی تحفظ کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا ہے، اور زمین پر زندگی صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہریالی، درخت اور صاف فضا قائم رہے۔‘‘
وہ ہفتہ کو کلبرگی میں منعقدہ شجرکاری مہم "ون مہوتسو"، "ہریالی پتھ" اور "کلبرگی کے سبز قدم" جیسے پروگراموں سے خطاب کر رہے تھے۔ ان تقریبات کا اہتمام محکمہ جنگلات، دیہی ترقی و پنچایت راج، شہری ترقی، ضلع انتظامیہ اور کلبرگی مہانگر پالیکا کے اشتراک سے کیا گیا۔
ڈاکٹر کھرگے نے ماحول کے تحفظ کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ماحولیاتی توازن قائم رکھنے کے لیے کم از کم 33 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے، لیکن افسوس کہ فی الحال ملک میں جنگلاتی رقبہ صرف 25.15 فیصد ہے اور کرناٹک میں تو یہ شرح 21 فیصد تک محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ درخت نہ صرف ہمیں آکسیجن دیتے ہیں بلکہ زمینی توازن، بارش اور زندگی کے دیگر بنیادی عناصر کا ذریعہ بھی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بچوں میں پودے تقسیم کیے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ درخت لگانے کے ساتھ ان کی حفاظت بھی یقینی بنائیں۔
ڈاکٹر کھرگے نے انکشاف کیا کہ حکومتِ کرناٹک نے امسال تین کروڑ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور اگر ان میں سے کم از کم 2.5 کروڑ پودے محفوظ رہتے ہیں تو یہ ماحولیات کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
اس موقع پر ریاستی وزیر جنگلات ایشور بی کھنڈرے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے ’’ہر گھر ایک درخت، ہر گاؤں ایک جنگل‘‘ کے نعرے کے ساتھ شجرکاری کو تحریک کی صورت دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کلیان کرناٹک خطے میں آئندہ دو برسوں میں ایک کروڑ پودے لگانے کا منصوبہ ہے، جس سے جنگلاتی رقبے میں پانچ فیصد اضافہ متوقع ہے۔
پروگرام کے دوران مختلف اقسام کے سیکڑوں پودے لگائے گئے، "گرین پتھ" کا لوگو اور "گرین اسٹیپس" ویڈیو ٹیزر بھی جاری کیا گیا۔ تقریب کی صدارت رکن اسمبلی الّما پربھو پاٹل نے کی، جب کہ اس موقع پر ریاستی وزراء پرینک کھرگے، ایشور کھنڈرے، منصوبہ بندی کمیشن کے نائب صدر بی آر پاٹل، اراکینِ پارلیمان، اراکینِ اسمبلی اور دیگر اعلیٰ افسران و عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔