بینگلورو ، 11 / جون (ایس او نیوز) شہر میں ساَئبر فراڈ کا ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس میں دھوکے بازوں نے ایک معمر جوڑے کو ڈیجیٹل اریسٹ کی دھمکی دے کر ان سے تقریباً 4.79 کروڑ روپے وصول کیے تھے ۔ جس کی بعد بینگلورو ساوتھ کے سی ای این پولیس تھانے کی تفتیشی ٹیم نے دو ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے ۔
سائبر فراڈ کا شکار ہوئے منجوناتھ نامی شخص کی طرف سے درج کروائی گئی شکایت پر کی گئی پولیس کی کارروائی میں نارائین سنگھ چودھری اور ایشور سنگھ نامی ملزمین گرفتار ہوئے ہیں ۔
معلوم ہوا ہے کہ منجو ناتھ نے انجینئر کے طور پر افریقی ملک نائجیریا میں 31 سال تک خدمات انجام دی تھیں ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ بینگلور میں مقیم ہوگیا تھا ۔ امسال مارچ کے مہینے میں ملزمین نے بینک کے نمائندوں کے روپ میں منجوناتھ کوفون کرکے بتایا کہ اس کے "کریڈٹ کارڈ کی جو حد ہے وہ بہت زیادہ ہوگئی ہے " اور اس بہانے بینک اکاونٹ کی تفصیلات معلوم کر لی گئی ۔ پھر اسے بتایا کہ اس بینک کھاتے سے پیسوں کا غیر قانونی لین دین ہوا ہے اور اس سلسلے میں ای ڈی اور سی بی آئی کے پاس شکایت درج کی گئی ہے ۔ اس کے بعد نقلی وارنٹ دکھاتے ہوئے دھمکی دی گئی کہ تمہیں گرفتار کرکے تہاڑ جیل میں بھیجا جائے گا۔
منجو ناتھ نے اپنی شکایت میں بتایا ہے کہ تقریباً تین مہینوں کے دوران میں مختلف مرحلوں پر دھمکیاں لیتے ہوئے اس سے جملہ 4.79 کروڑ روپے وصول کیے گئے ۔ اس کے علاوہ اس کی جائیداد کے کاغذات کی نقل بھی حاصل کی گئی ۔ جب دھمکی اور رقم وصولی کا سلسلہ ختم ہوتا نظر نہیں آیا تو منجو ناتھ اور اس کی بیوی نے پولیس سے رابطہ قائم کیا ۔
بینگلورو ساوتھ پولیس کی ڈی سی پی سارہ فاطمہ نے بتایا کہ اس معاملے کی تفتیش کے بعد جن ملزمین کو گرفتار کیا ہے ان کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ انہوں نے لوٹی گئی رقم کو سری لنکا کے جوا خانے(کیسینو) میں اڑایا ہے ۔ اس معاملے کی تفتیش جاری ہے اور گرفتار شدہ ملزمین سے لوٹی گئی رقم بازیافت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔